جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دُنیا پر ظاہر ہو چکیں ایک شخص نور احمد نام مولوی غلام علی صاحب امرتسری کے شاگردوں میں سے قادیان میں آیا اور اس سے منکر تھا کہ اس امت کے بعض افراد خدا تعالیٰ سے سچی اور یقینی وحی پا سکتے ہیں۔ اس کو یہ کہہ کر ٹھہرایا گیا کہ ہم دعا کرتے ہیں شائد اللہ تعالیٰ کوئی ایسا الہام کرے جو کسی پیشگوئی پر مشتمل ہو۔ سو دعا منظور ہو کر یہ الہام حکایتًاعن الغیر انگریزی میں ہوا آئی ایم کوُرْلَرْ یعنی میں مقدمہ کرنے والا ہوں اور جھگڑنے والا ہوں اور ساتھ ہی یہ الہام ہوا ھٰذا شاھد نزاغ۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۴۷۲۔ یعنی یہ گواہ تباہی ڈالنے والا ہے اور تفہیم کی گئی ہے کہ کسی کا مقدمہ ہے اور وہ مجھے گواہ بنانا چاہتا ہے یہ تمام مراتب میاں نور احمدکو قبل از ظہور پیشگوئی سنائے گئے اس دن حافظ نور احمد امرت سر جانے کو تیار تھا بارش ہوئی اور وہ روک لیا گیا۔ شام کو اس کے روبرو رجب علی نام اڈیٹر مطبع سفیر ہند کا امرتسر سے خط آیا اور ساتھ ہی ایک سمن شہادت میرے نام آیا جس سے معلوم ہوا کہ پادری رجب علی نے مجھے اپنا گواہ لکھوایا ہے۔ اور دعویٰ صحیح تھا اور میری شہادت موجب تباہی مدعا علیہ تھی یہی معنے دن روپیہ ضرور آئیگا اوراس دن کسی مجبوری سے امرتسر بھی جانا پڑے گا کیا ایسی پیشگوئیوں پر انسان بھی قادر ہو سکتا ہے اور اس سے زبردست اور کیا ثبوت ہو گا کہ آریہ جو دین کے پکے دشمن ہیں اس پیشگوئی کے گواہ ہیں۔ منجملہ ان کے لالہ شرمپت اور لالہ ملاوامل ساکنان قادیان جو اب تک زندہ موجود ہیں اس نشان سے خوب واقف ہیں ان کے لئے بڑی مصیبت ہے کہ اسلام کی گواہی دیں لیکن اگر یہ مقام براہین احمدیہ کا ان کو دکھلایا جاوے اور ان کی اولاد کی ان کو قسم دی جاوے کیونکہ ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کا خوف نہیں تو ممکن نہیں کہ جھوٹ بولیں کیا دعا قبول ہو کر پھر خدا کا پیشگوئی کرنا اور اپنی تائید دکھلانا اور امرتسر جانے کا نشان ساتھ رکھنا یہ معجزہ نہیں ۔ اور پیشگوئی نمبر ۱۷ کا حافظ نور احمد اور حافظ حامد علی وغیرہ گواہ ہیں۔