جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس کی خارق عادت پیشگوئیاں جوظہور میں آچکیں
کوئی ڈاکخانہ میں جائے تا معلوم کرے کہ اسی دن کسی ایسے شخص کی طرف سے کوئی روپیہ آیا ہے یا نہیں چنانچہ ملاوامل آریہ اس کام کے لئے گیا اور ایک خط لایا جس میں لکھا تھا کہ مبلغ دس۱۰ روپیہ ارباب سرور خان نے بھیجے ہیں مگر آریوں نے اس بات سے انکار کیا کہ سرور خان کو محمد لشکر خان کا کوئی قرابتی سمجھا جائے۔ ناچار منشی الٰہی بخش اکونٹنٹ مصنف عصائے موسیٰ جو ہوتی مردان میں تھے ان کو خط لکھنا پڑا کہ اس جگہ یہ بحث در پیش ہے اور دریافت طلب یہ امر ہے کہ سرور خان کی محمد لشکر خان سے کچھ قرابت ہے یا نہیں۔ ہوتی مردان سے منشی الٰہی بخش صاحب نے لکھا کہ سرور خان ارباب لشکر خان کا بیٹا ہے اور آریہ لاجواب ہو گئے۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۴۷۴و صفحہ ۴۷۵۔
جس۱ زمانہ میں براہین چھپ رہی تھی روپیہ کی آمدن میں قدم قدم پر تنگی تھی۔ کوئی جماعت نہ تھی جن سے چندہ لیا جائے اس لئے مدت تک مسودہ کتاب کا معطل پڑا رہا۔ اور الہامات تسلی دیتے
منشی الٰہی بخش صاحب مصنف عصائے موسیٰ دشمنوں میں سے ہیں مگر ان کو بھی قسم سے سچ بولنا پڑے گا۔
علاوہ اس کے یہ پیشگوئی بیس۲۰ برس کی ہے اگر اس میں کوئی امر خلاف واقعہ ہوتا تو آریہ باوجود اس قدر مذہبی عداوت کے اس پر صبر نہیں کر سکتے تھے ضرور اس کا ردّ قسم کے ساتھ شائع کرتے کہ یہ امور خلاف واقعہ ہیں۔
اور پیشگوئی نمبر ۱۹ کے گواہ اول تو براہین احمدیہ ہے جس میں یہ پیشگوئی لکھی گئی پھر اس زمانہ