جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دُنیا پر ظاہر ہو چکیں
سخت وبا کا زمانہ آئے گا اور آخر کار یہ ہو گا کہ جو لوگ خدا اور اس کے مامور کی طرف سچے دل سے اور پورے اخلاص سے توجہ کریں گے وہ بچائے جائیں گے اور بہر حال نسبتاً عافیت سے حصہ لینے والے سب سے زیادہ وہی ہوں گے سو یہ طاعون کے زمانہ کی طرف اشارہ ہے اور جو لوگ انجام تک جیتے رہیں گے وہ دیکھیں گے کہ وباء طاعون کے دنوں میں خدا کی خاص برکات اس سلسلہ کے مخلصوں کے شامل حال رہیں گی اور وہ نسبتاً جلتی ہوئی آگ سے بہت دور رہیں گے۔
بخرام کہ وقتِ تو نزدیک رسید و پائے محمد یان برمنارِ بلند تر محکم افتاد۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۲۲۔ یعنی اب ظہور کر اور نکل کہ تیرا وقت نزدیک آگیا اوراب وہ وقت آ رہا ہے کہ محمدی گڑھے میں سے نکال لئے جاویں گے اور ایک بلند اور مضبوط مینار پر ان کا قدم پڑے گا۔ اس کے ساتھ ہی براہین احمدیہ میں ایک انگریزی الہام ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ وہ دن آ رہے ہیں کہ جب خدا تمہاری مدد کرے گا خدائے ذوالجلال آفرینندہ زمین و آسمان ۔ یہ ان دنوں کی پیشگوئی ہے جب کہ اس سلسلہ کا نام و نشان نہ تھا کیا یہ انسان کی قدرت میں سے ہے۔
طاعون زور پر ہے اور معلوم نہیں کہ موسم سرما میں کیاصورت پیش آئے گی اب سوچ لو کہ کیا یہ امور غیبیہ انسان کے ہاتھ میں ہیں کیا آج سے بیس۲۰ برس پہلے کسی کو خبر بھی تھی کہ اس ملک میں اس زور سے طاعون آئے گی ایسا ہی ان پیشگوئیوں میں ترقی کے زمانہ کی اس وقت خبر دی گئی ہے جب کہ یہ عاجز گوشہء گمنامی میں پڑا ہوا تھا۔ اب سوچ لو کہ کیا انسان بھی یہ قدرت رکھتا ہے۔