جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دُنیا پر ظاہر ہو چکی ہیں یا احمد فاضت الرحمت عَلٰی شفتیک۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۱۷۔ ترجمہ۔ اے احمد تیرے لبوں پر رحمت جاری کی جاویگی۔ بلاغت اور فصاحت اور حقائق اور معارف تجھے عطا کئے جاویں گے سو ظاہر ہے کہ میری کلام نے وہ معجزہ دکھلایا کہ کوئی مقابلہ نہیں کر سکا۔ اس الہام کے بعد بیس۲۰ سے زیادہ کتابیں اور رسائل میں نے عربی بلیغ فصیح میں شائع کئے مگر کوئی مقابلہ نہ کر سکا۔ خدا نے ان سے زبان اور دل دونو چھین لئے اور مجھے دے دئے۔ وقالواانّی لک ھٰذا ان ھٰذا الَّا سحر یؤثر۔ لن نؤمن لک حَتّٰی نری اللّٰہ جھرۃ لایصدق السفیہ الاسیفۃ الھلاک عدوٌّلّی وعدوٌّ لک۔ قل اتٰی امراﷲ فلا!تستعجلوہ۔ دیکھو صفحہ ۵۱۸ و۵۱۹ براہین احمدیہ۔ ترجمہ۔ اور کہتے ہیں کہ یہ مقام تجھے کہاں سے ملا یہ تو ایک فریب ہے۔ ہم تیرے پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک خدا کو نہ دیکھ لیں یہ لوگ تو بجز موت کے نشان کے کبھی مانیں گے نہیں۔ ان کو کہہ دے کہ مری یعنی طاعون بھی چلی آتی ہے سو تم مجھ سے جلدی مت کرو۔ یہ پیشگوئی بیس برس پہلے طاعون کے کی گئی تھی۔ امراض الناس وبرکاتہ۔ لوگوں کی مرضیں اور خدا کی برکتیں۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۱۹۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک جیسا کہ ہم اوپر لکھ آئے ہیں کہ یہ تمام پیشگوئیاں براہین احمدیہ میں درج ہیں اور وہ گواہ بھی درج ہیں جن کے روبرو بعض پیشگوئیاں پوری ہوئیں اور طاعون پھیلنے کی خبر جو براہین احمدیہ میں تھی وہ اب ملک میں پھیل رہی ہے اس وقت بھی جو ۲۰؍ اگست ۱۹۰۲ ؁ء ہے بعض حصوں پنجاب میں