جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دُنیا پر ظاہر ہو چکی ہیں انوکھی بات ہے قدیم سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے کوئی خارق عادت امر نہیں ۔ پس خدا تعالیٰ نے اس الہام میں وہی آیت پیش کرکے یہ اشارہ کیا ہے کہ ان لوگوں کو بھی خسوف کا نشان دکھلایا جاوے گا اور منکر لوگ وہی کہیں گے جو ابوجہل وغیرہ نے کہا تھا یعنی ’’اس طرح پر قدیم سے خسوف کسوف ہوتا آیا ہے‘‘ خارق عادت ہونا چاہئے تھا تا ہم مانتے۔ پس دیکھو یہ پیشگوئی کیسی عظیم الشان ہے جو خسوف کسوف سے بارہ برس پہلے لکھی گئی۔ کسوف ہو جائیگا ۔ اب ظاہر ہے کہ ہمیشہ رمضان میں خسوف کسوف نہیں ہوتا اگر ہوتا ہو گا تو صد ہا برس کے بعد۔ اور پھر یہ کہ خسوف بھی انہیں تاریخوں میں ہو یہ خصوصیت بھی صدہا سال کو ہی چاہتی ہے۔ اب حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب تک مہدی معہود ظاہر نہ ہو یہ خصوصیتیں کسی زمانہ میں کسی کاذب مدعی کے وقت میں جمع نہیں ہوں گی صرف مہدی کے وقت میں جمع ہوں گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا تو اب ظاہر ہے کہ مہدی معہود کی علامت کے لئے اسی قدر کافی تھا کہ اس کے ابتدائی زمانہ میں رمضان میں ان تاریخوں میں خسوف کسوف ہو گا قانون قدرت کو توڑنے کی کچھ ضرورت نہ تھی۔ رہا یہ امر کہ دار قطنی کی حدیث ضعیف ہے۔ اگر ہم فرض کر لیں تو پھر کتاب اکمال الدین میں بھی تو یہی حدیث ہے ماسوا اس کے اصل بات تو یہ ہے کہ محدثین کی نہ تو تصدیق یقینی ہے اور نہ تکذیب۔ اس لئے خدا نے اس حدیث کی تصدیق خود کر دی اب کس محدث کی مجال ہے کہ اس کی تکذیب کرے۔ پیشگوئی تو انجیل اور تورات کی بھی ماننی پڑے گی اگر وہ صفائی سے پوری ہو جاوے گو وہ کتابیں محرف مبدل ہیں بلکہ اگر سکھوں کے گرنتھ میں بھی کوئی پیشگوئی ہو جو بے حد رطب و یا بس کا ذخیرہ ہو اور وہ پیشگوئی پوری ہو جائے تب بھی ماننی پڑے گی۔ کیا انسان کی تنقید خدا کی تنقید سے بہتر ہے۔