جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دُنیا پر ظاہر ہو چکیں یا عبدالقادر انی معک اسمع وارٰی غرست لک بیدی رحمتی و قدرتی۔ والقیت علیک محبۃ منّی۔ ولتصنع علٰی عینی۔ کزرع اخرج شطأہ فاستغلط فاستوٰی علٰی سوقہٖ۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۱۴۔ ترجمہ۔ اے قادر کے بندے میں تیرے ساتھ ہوں۔ میں دیکھتا ہوں اور سنتا ہوں۔ میں نے اپنی محبت تیرے پر ڈال دی تا کہ تو میری آنکھوں کے روبرو پرورش کیا جائے۔ تو ایک بیج کی طرح ہے یعنی اکیلا ہے جس کی ابھی کوئی شاخ نہیں نکلی۔ صرف ایک سبزہ نکلا مگر بعداس کے ایسا ہو گا کہ وہ سبزہ موٹا ہو جاوے گا اور اس کی شاخیں تنا پر قائم ہوں گی اور وہ ایک بڑا درخت بن جائے گا اب دیکھو کہ یہ پیشگوئی کس قدر صفائی سے پوری ہوئی اور باوجود سخت مخالفوں کی سخت مزاحمتوں کے یہ سلسلہ ایک عظیم بزرگی کے ساتھ قائم ہو گیااور جیسا کہ پیشگوئی کا منشاء تھا اس تخم کی بہت سی شاخیں نکل آئیں اور پنجاب اور ہندوستان میں پھیل گئیں اور پھیلتی جاتی ہیں۔ براہین احمدیہ میں بارہا یہ ذکر آچکا ہے کہ تو اس وقت اکیلا ہے اور تیرے ساتھ کوئی نہیں جیسا کہ ایک جگہ میری دعا کا خود خدا تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُالْوَارِثِیْنَ یعنی اے خدا مجھے اکیلا مت چھوڑ اور تو بہترین ورثاء ہے پس اس جگہ خدا گواہی دیتا ہے کہ اس الہام کے وقت میں اکیلا تھا سو خدا نے وعدہ دیا کہ تو اکیلا نہیں رہے گا اور ایک جہان تیری شاخوں میں داخل ہو جائے گا۔ براہین احمدیہ ان تمام پیشگوئیوں کی گواہ ہے اور کوئی اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ یہ اس زمانہ کی پیشگوئیاں ہیں کہ جبکہ اس اقبال اور عزت اور کامیابی کے کچھ بھی آثار نہ تھے کہ جو اب ۱۹۰۱ ؁ء و ۱۹۰۲ ؁ء میں ظہور میں آئے۔