جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دُنیا پر ظاہر ہو چکیں وان یرو ا اٰیۃ یعرضوا و یقولو ا سحر مستمر۔واستیقنتھا انفسہم وقالوا لات حین مناص۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۴۹۸۔ ترجمہ۔ جب دیکھیں گے کوئی نشان تو مُنہ پھیر لیں گے اور کہیں گے کہ یہ ایک مکر ہے اور یہ تو ابتدا سے چلا آتا ہے کوئی انوکھی بات نہیں کوئی خارق عادت امر نہیں اور ان کے دل یقین کر گئے اور کہا کہ اب گریز کی جگہ نہیں ۔ یہ آیت یعنی ۱؂یہ سورۃ قمر کی آیت ہے شق القمر کے معجزہ کے بیان میں اس وقت کافروں نے شق القمر کے نشان کو ملاحظہ کر کے جو ایک قسم کا خسوف تھا یہی کہا تھا کہ اس میں کیا براہین احمدیہ کا الہام صفحہ ۴۹۸۔ اس بات کا گواہ ہے کہ یہ پیشگوئی بارہ برس پہلے خسوف سے کی گئی تھی اور باوجود اسکے کہ یہ پیشگوئی کتاب دار قطنی میں قریباً ہزار برس پہلے اور کتاب اکمال الدین میں جو شیعہ کی نہایت معتبر کتاب ہے اسی قدر مدت پہلے کی گئی تھی مگر تب بھی لوگوں نے قبول نہ کیا اور کہا کہ خسوف قمر مہینہ کی پہلی رات میں یعنی ہلال کو ہونا چاہئے تھا اور کسوف شمس ٹھیک ٹھیک مہینہ کے وسط میں ہونا چاہئے تھا یعنی پندرھویں تاریخ مگر جس طرح پر یہ ہوا یہ تو ایک مستمر امر ہے یعنی قدیم سے اسی طرح چلا آتا ہے حالانکہ حدیث میں خارق عادت کا کوئی لفظ نہیں صرف اپنی نادانی سے فقرہ اول شب اور فقرہ درمیانی روز سے یہ غلط معنی نکالتے ہیں اور حدیث کا مطلب ظاہر ہے اور وہ یہ کہ خسوف قمر اس کی مقررہ راتوں میں سے جو قانون قدرت میں مقرر ہیں اول رات میں ہو گا اور کسوف شمس اس کے مقررہ دنوں میں سے درمیان کے دن میں یعنی اٹھائیس تاریخ ہو گا اور اسی طرح وقوع میں آیا یہ ایک سچے مہدی موعود کیلئے ایک علامت مقرر کی گئی تھی کہ اس کے دعویٰ کے دنوں میں جب اس کی تکذیب ہو گی اور وہ نشان کا محتاج ہو گا تب ماہ رمضان میں ان تاریخوں میں خسوف