جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دُنیا پر ظاہر ہو چکیں کیونکہ ماں موجود تھی مگر میں روحانی طور پر بغیر باپ اور ماں دونوں کے ہوں کیونکہ نہ کوئی مرشد رکھتا ہوں جو بجائے باپ کے ہو اور نہ خاندان نبوت جو بجائے ماں کے ہو اور میں آدم کی طرح توام ہوں اور حضرت عیسیٰ توام نہیں تھا اور آدم کی طرح خونریزی کی میرے پر تہمت لگائی گئی اور حضرت عیسیٰ پر یہ تہمت نہیں لگائی گئی۔ اور آدم کی طرح میں جمالی اور جلالی دونوں رنگ رکھتا ہوں مگر حضرت عیسیٰ محض جمالی رنگ تھا۔ اس لئے میں آدم کے لئے مظہر اتم ہوں مگر حضرت عیسیٰ مظہر اتم نہیں تھا چونکہ نوع انسان جس نقطہ سے شروع ہوئی اسی نقطہ پر اس کو بلحاظ وضع دوری ختم ہونا چاہئے اس لئے آخر سلسلہ نوع انسان میں آدم کا مظہر اتم پیدا کیا گیا تا اس طرح پر دائرہ خلقت انسان پورا ہو جائے اور چونکہ آدم نر اور مادہ پیدا کیا گیاتھا اسلئے خدا نے مجھے نر اور مادہ یعنی بطور توام پیدا کیا تا آخر کو اول سے مشابہت ہو اور نیز مجھے اس نے نہ خاندان نبوت سے پیدا کیا جو بطور ماں کے ہے اور نہ مرشد جو روحانی تعلیم دیتا مجھے عطا کیا تا بطور روحانی باپ کے ٹھہرتا اور یہ ضرور نہ تھا کہ میں عیسیٰ کی طرح بغیر باپ کے پیدا ہوتا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ضرور نہ تھا کہ عصا کا سانپ بناتے بلکہ قرآن شریف کے معجزہ کو قائمقام عصا ٹھہرا یا گیا کیونکہ خدا نہیں چاہتا کہ گذشتہ نشانوں کو دوبارہ ظاہر کرے مگر برنگ دیگر نہ کہ اتفاقی طور پر ۔ غرض ایک مرسل اور مامور کے لئے خلافت اور نبوت کا منصب ثابت کرنا کسی ایسی تائید الٰہی کو چاہتا ہے جس کے ساتھ پیشگوئی ہو اور اس پیشگوئی کی ضرورت سمجھتا ہے جس کے ساتھ تائید ہو اور اثبات مدعا کے لئے بجز اس کے اور کوئی ضرورت نہیں