جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دُنیا پر ظاہر ہو چکیں سو میں نے آدم کو یعنی اس عاجز کو اپنا خلیفہ مقرر کیا۔ میں اسی آدم کو زمین پر اپنی خلافت کے لئے مامور کرنے والا ہوں اور لوگ کہیں گے کہ کیوں ایساخلیفہ مقرر کیا جاتا ہے کہ مفسد ہے اور خونریز ہے یعنی خونریزی کی تہمت لگائیں گے۔ چنانچہ اس پیشگوئی کے مطابق آخر کار نادان لوگوں نے ایسا ہی کیا جیسا کہ لیکھرام کے معاملہ کے بارے میں اور ڈاکٹر کلارک کے بارے میں اور آتھم کے بارے میں۔ پھر فرماتا ہے کہ خدا کہے گا کہ تم غلطی کرتے ہو اس شخص کی نسبت جو کچھ میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ یہ پیشگوئی صاف طور پر دلالت کرتی ہے کہ لوگ انکار کریں گے اور جھوٹے الزام لگائیں گے اور منظور نہیں کریں گے سو ایسا ہی ظہور میں آیا اور خدا نے میرا نام آدم رکھا تا آخر کو اول سے نسبت ہواور نیز یہ بھی مشابہت درمیان تھی کہ آدم توام کے طور پر پیدا کیا گیا پہلے نر اور پیچھے مادہ ہوا۔ تا ترقی کرنے والے انسانی سلسلہ کی طرف اشارہ کرے اور میں بھی آدم کی طرح توام پیدا کیا گیا مگر پہلے لڑکی پیدا ہوئی اور بعد اس کے مَیں ۔ تا یہ وضع پیدائش انسانی سلسلہ کے ختم ہونے پر اشارہ کرے۔ سو میں اس طور سے آخر ہوں جیسا کہ آدم اول تھا اور عیسیٰ بن مریم کو آدم سے صرف ایک مناسبت تھی کہ بغیر باپ کے پیدا ہوا اور وہ مناسبت بھی ناقص ایک نشان ہوتا ہے لیکن جب قبل از وقت پیشگوئی کے رنگ میں اس کو بیان کیا جاوے تو وہ نشان نور علیٰ نور ہو جاتا ہے کیونکہ پیشگوئی کا پورا ہونا اس بات پر مہر کر دیتا ہے کہ وہ تائید جو ظہور میں آئی ہے وہ درحقیقت منجانب اللہ ہے۔