جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دُنیا پر ظاہر ہو چکیں ذکر منقطع ہو جائے گا ۔ اور خدا اس خاندان کی بزرگی کی بنیاد تجھ سے ڈالے گا۔ اب بتلاؤ کیا یہ سچ نہیں کہ میری شہرت میرے خاندان کی شہرت سے بہت زیادہ بڑھ گئی اور ہزار ہا مخلوقات کو خدا نے ربقہ اطاعت میں داخل کر دیا اور آج کے دن سے پہلے کون جانتا تھا کہ اس سلسلہ کی اس قدر ترقی ہو جائے گی خاص کر براہین احمدیہ کے زمانہ میں جبکہ نہ کوئی سلسلہ تھا نہ دعوت تھی نہ جماعت تھی نہ شہرت تھی۔ پس افسوس ان پرجو نہیں سمجھتے اور خدا کی عجائب قدرتوں پر غور نہیں کرتے۔ اردت ان استخلف فخلقت اٰدم ۔ انّی جاعل فی الارض خلیفۃ۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۴۹۲۔ یہ پیشگوئی باعتبار مفہوم لفظ آدم کے ہے کیونکہ فرشتوں نے آدم کی خلافت کو منظور نہ کیا۔ مگر آخر وہی جس کو رد کیا گیا تھا خلیفہ ٹھہرایا گیا اور نامنظور کرنے والوں کی کچھ پیش نہ گئی بلکہ سخت منکر ان میں سے شیطان کہلایا۔ پس لفظ آدم میں اس قصہ کی طرف اشارہ ہے کہ اس جگہ بھی ایسا ہی ہو گا اور خدا اس خلافت کو اپنے ہاتھوں سے زمین پر جمائے گا ۔ اور اس پیشگوئی کا ایک حصہ ازالہ اوہام میں ایک الہام ہے اور وہ یہ ہے۔ قالوا أ تجعل فیھا من یفسد فیھا و یسفک الدّمآء قال انّی اعلم مالا تعلمون۔ ان تمام الہامات کا ترجمہ یہ ہے کہ میں نے ارادہ کیا کہ اپنا خلیفہ زمین پرپیدا کروں۔ پیشگوئی نمبر ۵ کا ثبوت گذر چکا اور پیشگوئی نمبر ۶ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ آدم کے رنگ پر میرے پر بھی اعتراض ہوں گے اور میری معائب شماری ہو گی اور آخر خدا میری عزت ظاہر کرے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا اور عیب شمار لوگوں کو خائب و خاسر ہونا پڑا اور خدا نے میری تائید کی اور اگرچہ تائید الٰہی بجائے خود