جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دُنیا پر ظاہر ہو چکی ہیں ہزارہا اُن کے گواہ ہیں جن میں سے بعض اس جگہ لکھے گئے
کے انتقال کو اٹھائیس۲۸ برس ہو چکے ہیں بعد اس کے میں نے مرزا صاحب کی تجہیز تکفین سے فراغت کر کے وہ وحی الٰہی جو تکفل الٰہی کے بارہ میں ہوئی تھی یعنی الیس اللّٰہ بکافٍ عبدہٗ اس کو ایک نگینہ پر کھدوا کر وہ مُہر اپنے پاس رکھی اور مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ خارق عادت طور پر یہ پیشگوئی پوری ہوئی اور نہ صرف میں بلکہ ہر یک شخص جو میرے اس زمانہ کا واقف ہے جب کہ میں اپنے والد صاحب کے زیرسایہ زندگی بسر کرتا تھا وہ گواہی دے سکتا ہے کہ مرزا صاحب مرحوم کے وقت میں کوئی مجھے جانتا بھی نہیں تھا اُن کی* وفات کے بعد خدا تعالیٰ نے اس طور سے میری دستگیری کی اور ایسا میرا متکفل ہوا کہ کسی شخص کے وہم اور خیال میں بھی نہیں تھا کہ ایسا ہونا ممکن ہے ہریک پہلو سے وہ میرا ناصر اور معاون ہوا مجھے صرف اپنے دسترخوان اور روٹی کی فکر تھی مگر اب تک اس نے کئی لاکھ آدمی کو میرے دسترخوان پر روٹی کھلائی۔ ڈاکخانہ والوں کو خود پوچھ لو کہ کس قدر اس نے روپیہ بھیجا ۔ میری دانست میں دس لاکھ سے کم نہیں اب ایماناً کہو کہ یہ معجزہ ہے یا نہیں۔
گئی تھی حکیم صاحب مرحوم کے دوستوں اور اولاد کو بھی یہ واقعہ معلوم ہے اب جو شخص ذرا حیا کو کام میں لا کر یہ سوچے اور تحقیق کرے کہ آج سے ۲۸ برس پہلے یعنی حضرت والد صاحب کے زمانہ میں مَیں کیا چیز تھا پھر خدا کی اس وحی الیس اللّٰہ بکاف عبدہ کے بعد خدا نے میری کیسی پرورش کی تو میں یقین نہیں رکھتا کہ اس معجزہ سے بجز اس شخص کے کہ سخت درجہ کا بے حیا ہو انکار کر سکے۔