جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دُنیا پر ظاہر ہو چکی ہیں ہزارہا اُن کے گواہ ہیں جن میں سے بعض اس جگہ لکھے گئے یہ گذرا کہ ان کی وفات سے مجھے بڑاا بتلا پیش آئے گا کیونکہ جو وجوہ آمدنی ان کی ذات سے وابستہ ہیں وہ سب ضبط ہو جائیں گی اور زمینداری کا حصہ کثیرہ شرکاء لے جائیں گے اور پھر نا معلوم ہمارے لئے کیا کیا مقدر ہے میں اس خیال میں ہی تھا کہ پھر یکدفعہ غنودگی آئی اور یہ الہام ہوا الیس اللّٰہ بکاف عبدہ۔ یعنی کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ۔ پھر اس کے بعد میرے دل میں سکینت نازل کی گئی اور نماز ظہر کے بعد میں نیچے اترا اور جون کا مہینہ اور سخت گرمی کے دن تھے اور میں نے جا کر دیکھا کہ میرے والد صاحب تندرست کی طرح بیٹھے تھے اور نشست برخاست اور حرکت میں کسی سہارے کے محتاج نہ تھے اور حیرت تھی کہ آج واقعہ وفات کیونکر پیش آئے گا۔ لیکن جب غروب آفتاب کے قریب وہ پاخانہ میں جا کر واپس آئے تو آفتاب غروب ہو چکا تھا اور پلنگ پر بیٹھنے کے ساتھ ہی غرغرہ نزع شروع ہو گیا۔ شروع غرغرہ میں مجھے انہوں نے کہا دیکھا یہ کیا حالت ہے اور پھر آپ ہی لیٹ گئے اور بعد اس کے کوئی کلام نہ کی اور پھر چند منٹ میں ہی اس ناپائیدار دنیا سے گذرگئے۔ آج تک جو دس۱۰ اگست ۱۹۰۲ ؁ء ہے مرزا صاحب مرحوم کچھ ضروت نہیں کیونکہ یہ مہر ایک آریہ کی معرفت بنوائی گئی تھی جو اب تک زندہ موجود ہے جس کا نام ملاوامل ہے اور اسکا دوسرا ہم قوم بھائی شرمپت نام بھی اس بات کا گواہ ہے اور وہ آریہ میرے اس الہام کو بذریعہ میرے ایک خط کے امرتسر میں حکیم محمدشریف کلانوری مرحوم کے پاس لے گیا تھا اور وہاں ایک مُہر کن سے یہ مُہر بنوائی