یعنیؔ ہم نمونہ کے طور پر چند وہ نشان لکھتے ہیں جو اس وحی کے ساتھ وقتاً فوقتاً ظاہر ہوئے جو میرے پر نازل ہوئی اور وہ یہ ہیں:۔ نمبرشمار تاریخ بیان پیشگوئی جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اسی وحی نے یہ خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں اور ہزار ہا ان کے گواہ ہیں جن میں سے بعض اس جگہ لکھے گئے ۔ تاریخ ظہور پیشگوئی پہلی پیشگوئی معہ تفصیل واقعہ۔ میرے والد صاحب میرزا غلام مرتضیٰ مرحوم اس نواح میں ایک مشہور رئیس تھے گورنمنٹ انگریزی میں وہ پنشن پاتے تھے اور اس کے علاوہ چار سو روپیہ انعام ملتا تھا اور چار گاؤں زمینداری کے تھے پنشن اور انعام ان کی ذات تک وابستہ تھے اور زمینداری کے دیہات کے متعلق شرکاء کے مقدمات شروع ہونے کو تھے اتنے میں وہ قریباً برس کی عمر میں بیمار ہو گئے اور پھر بیماری سے شفا بھی ہو گئی۔ کچھ خفیف سی زحیر باقی تھی۔ ہفتہ کا روز تھا اور دوپہر کا وقت تھا کہ مجھے کچھ غنودگی ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا ۔ وَالسَّماءِ وَالطّارقجس کے معنی مجھے یہ سمجھائے گئے کہ قسم ہے آسمان کی اور قسم ہے اس حادثہ کی کہ غروب آفتاب کے بعد پڑیگا اور دل میں ڈالا گیا کہ یہ پیشگوئی میرے والد کے متعلق ہے اور وہ آج ہی غروب آفتاب کے بعد وفات پائیں گے اور یہ قول خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور ماتم پرسی کے ہے۔ اس وحی الٰہی کے ساتھ ہی میرے دل میں بمقتضائے بشریت اس وحی الٰہی کی گواہ رویت ایک بڑی جماعت ہے۔ اگر میں تفصیل سے لکھوں تو ایک ہزار سے بھی زیادہ ہو گا مگر چونکہ حضرت مرزا صاحب مرحوم کی وفات کے بعد ہی جس کو آج اٹھائیس برس گذر چکے ہیں اس الہام کو ایک نگینہ پر کھدوا کر ایک مہر بنوائی گئی تھی جو اب تک موجودہے جس کا یہ نشان ہے اس لئے زیادہ ثبوت کی