نہ ؔ ہوں وہ طاقت بڑے جوش اور زور سے بتلاتی ہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور مُلہم کے دل کو ایسا اپنا مسخر بنا لیتی ہے کہ اگر اس کو آگ میں کھڑا کر دیا جاوے یا ایک بجلی اس پر پڑنے لگے وہ کبھی نہیں کہہ سکتا کہ یہ الہام شیطانی ہے یا حدیث النفس ہے یا شکی ہے یا ظنی ہے بلکہ ہر دم اس کی روح بولتی ہے کہ یہ یقینی ہے اور خدا کا کلام ہے۔ (۲) دوسرے خدا کے الہام میں ایک خارق عادت شوکت ہوتی ہے (۳) تیسری وہ پُر زور آواز اور قوت سے نازل ہوتا ہے (۴) چوتھی اس میں ایک لذت ہوتی ہے (۵) اکثر اس میں سلسلہ سوال و جواب پیدا ہو جاتا ہے۔ بندہ سوال کرتا ہے خدا جواب دیتا ہے اور پھر بندہ سوال کرتا خدا جواب دیتا ہے۔ خدا کا جواب پانے کے وقت بندہ پر ایک غنود گی طاری ہوتی ہے لیکن صرف غنودگی کی حالت میں کوئی کلام زبان پرجاری ہوناوحی الٰہی کی قطعی دلیل نہیں کیونکہ اس طرح پر شیطانی الہام بھی ہو سکتا ہے (۶) چھٹی وہ الہام کبھی ایسی زبانوں میں بھی ہو جاتا ہے جن کا ملہم کو کچھ بھی علم نہیں۔ (۷) خدائی الہام میں ایک خدائی کشش ہوتی ہے۔ اول وہ کشش ملہم کو عالم تفرید اور انقطاع کی طرف کھینچ لے جاتی ہے اور آخر اس کا اثر بڑھتا بڑھتا طبائع سلیمہ مبائعین پر جا پڑتا ہے تب ایک دنیا اس کی طرف کھینچی جاتی ہے اور بہت سی روحیں اس کے رنگ میں بقدر استعداد آ جاتی ہیں(۸) آٹھویں سچا الہام غلطیوں سے نجات دیتا اور بطور حَکَم کے کام کرتا ہے اور قرآن شریف کے کسی کلام بیان میں مخالف نہیں ہوتا۔ (۹) سچے الہام کی پیشگوئی فی حد ذاتہ سچی ہوتی ہے ۔ گواس کے سمجھنے میں لوگوں کو دھوکا ہو۔ (۱۰) دسویں سچا الہام تقویٰ کو بڑھاتا اور اخلاقی قوتوں کو زیادہ کرتا اور دنیا سے دل برداشتہ کرتا اور معاصی سے متنفر کر دیتا ہے (۱۱) سچا الہام چونکہ خدا کا قول ہے اس لئے وہ اپنی تائید کے لئے خدا کے فعل کو ساتھ لاتا ہے اور اکثر بزرگ پیشگوئیوں پر مشتمل ہوتا ہے جو سچی نکلتی ہیں اور قول اور فعل دونوں کی آمیزش سے یقین کے دریا جاری ہوجاتے ہیں اور انسان سفلی زندگی سے منقطع ہو کر ملکوتی صفات بن جاتا ہے۔ یقینی الہام میں سے جو اس عاجز کو عطا کیا گیا ہے وہ حصہ جو خوارق اور پیشگوئیوں پر مشتمل ہے ہم کسی قدر اس میں سے بطور نمونہ ذیل میں لکھتے ہیں۔