رہؔ جاتے ہیں اور آسمان کا تازہ پانی یعنی تازہ کلام الٰہی ان کے پاس نہیں آتا۔ پس اس سے سمجھا جاتا ہے کہ خدا نے ان کو چھوڑ دیا ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ مردود مذہب کی یہ نشانی ہے کہ تازہ کلام کا نور ا س میں پایا نہیں جاتا اور وہ لوگ ہمیشہ اسی کلام پر بھروسہ رکھتے ہیں جس کو تازہ الٰہی کلام تصدیق نہیں کرتا اور نہ تازہ نشان تصدیق کرتے ہیں۔ اس لئے ان کے دل مردہ رہتے ہیں اور نور یقین جو گناہوں کو جلاتا ہے ان کے نزدیک نہیں آتا۔ اس تمام بیان کا خلاصہ در خلاصہ یہ ہے کہ تازہ کلام الٰہی خدا کی شریعت کا پشتیبان ہے اور اس کشتی کو جو گناہوں کے سبب سے غرق ہونے لگتی ہے جلد تر کنار امن تک پہنچانے والا ہے مگر شائد کو ئی بھول نہ جائے اس لئے بار بار کہا جاتا ہے کہ کلام الٰہی سے مراد وہی کلام ہے کہ جو زمانہ کے لئے تازہ طور پر اترتا ہے اور اپنی طبعی خاصیت سے مُلہم اور اس کے ہم نشینوں پر ثابت کرتا ہے کہ میں یقینی طور پر خدا کاکلام ہوں۔ اور ایسا مُلہم طبعاً اس میں اور خدا کے دوسرے کلمات میں جو پہلے نبیوں پر نازل ہوئے من حیث الوحی کچھ فرق نہیں سمجھتا گو دوسری وجوہ سے کچھ فرق ہو۔ لیکن یاد رہے کہ عوام الناس کے ایسے شکی وہمی الہام ہماری اس بحث سے خارج ہیں جن کے ساتھ نہ تو خدائی نشان اور آسمانی متواتر تائیدیں ہوتی ہیں کہ تا اس قول کو فعل کی شہادت کے ساتھ قوت دیں اور نہ خود ملہم کو ان کی نسبت یقین کامل ہوتا ہے بلکہ وہ ہمیشہ دُبدہا میں رہتا ہے کہ آیا یہ شیطانی ہیں یا رحمانی۔ اس جگہ یہ نقطہ خوب توجہ سے یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جو الہامات ایسے کمزور اور ضعیف الاثر ہوں جو مُلہم پر مشتبہ رہتے ہیں کہ خدا کی طرف سے ہیں یا شیطان کی طرف سے۔ وہ درحقیقت شیطان کی طرف سے ہی ہوتے ہیں یا شیطان کی آمیزش سے۔ اور گمراہ ہے وہ شخص جو ان پر بھروسہ کرتا ہے اور بد بخت ہے وہ شخص جو اس خطرناک ابتلا میں ماخوذ ہے کیونکہ شیطان اس سے بازی کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کو ہلاک کرے۔ اکثر لوگ پوچھا کرتے ہیں کہ پھر رحمانی الہام کی نشانی کیا ہے اس کا جواب یہی ہے کہ اس کی کئی نشانیاں ہیں۔ (۱) اول یہ کہ الٰہی طاقت اور برکت اس کے ساتھ ایسی ہوتی ہے کہ اگرچہ اور دلائل ابھی ظاہر