کہؔ خدا کی غرض کتابوں کے نازل کرنے سے افادہ یقین ہے کہ تا اس کی ذات اور صفات اور اس کی پسندیدہ اور ناپسند راہوں پر لوگوں کو یقین آجاوے اور پھر یقین کی برکت سے وہ اپنے خدا پر پورا ایمان لاویں اور بدی سے پورے طور پرپرہیز کریں اور نیکی کو پورے طور پر حاصل کریں سو جب نبوت کا زمانہ گذر جاتا ہے اور خدا کاکلام قصوں کے رنگ میں پڑھا جاتا ہے تب یہ غرض مفقود ہو جاتی ہے اور دلوں میں ا س کلام پر یقین نہیں رہتا جیسا کہ تم یہودیوں کا حال دیکھتے ہو کہ توریت ان کے ہاتھ میں ہے اور کھوٹ ان کے دلوں میں۔ اور کیا تم عیسائیوں میں بتا سکتے ہو کہ ایسے لوگ ان میں کتنے ہیں کہ ایک طرف مار کھا کر دوسری طرف بھی پھیر دیتے ہیں اور چادر لینے والے کو کرتہ دینے کے لئے طیار ہیں اور آنکھوں کو بد نظری سے روکتے ہیں اور لوگوں پر عیب نہیں لگاتے اور ان کے دل ٹیڑھے اور مکّار اور منصوبہ باز نہیں مگر شاذونادر جس نے نہ انجیل سے بلکہ اپنی فطرت کی ہدایت سے بدی سے پرہیز کی ہو۔ غرض جس طرح ہر یک صبح تازہ کھانے کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح جب مرور زمانہ سے نور ایمان جو یقین ہے کم ہو جاتا ہے تو وہ خدا کی کلام کو پڑھتے تو ہیں مگر وہ پڑھنا ان کے حلق کے نیچے نہیں اترتا۔ تب خدا کا کلام جو ان سے دور ہو جاتا ہے اور انہیں چھوتا نہیں کوئی نیک اثر ان پر ڈال نہیں سکتا گویا وہ کلام ان کو چھوڑ کر آسمان پر اٹھ جاتا ہے تب ایک جوہر قابل پیدا کیا جاتا ہے جس کو کلام اپنی طرف کھینچتا ہے اور خدا کی کلام کی طاقت اس کو یقین کے کامل مرتبہ تک پہنچاتی ہے تب وہ علم جو آسمان پر اٹھ گیا تھا پھر اس کے ذریعہ سے زمین پر واپس آجاتا ہے اسی طرح ہمیشہ یقین خدا کے تازہ مکالمہ سے تازہ پیدا ہوتا رہتا ہے اور جس شریعت کو خدا تعالیٰ منسوخ کر دیتا ہے اس شریعت کی پیروی کرنے والوں کے دل ممسوخ ہو جاتے ہیں اور ان میں کو ئی باقی نہیں رہتا جس پر تازہ کلام وارد ہو۔ تب وہ کتاب ایک متعفن پانی کی طرح ہو جاتی ہے جس کے ساتھ بہت کیچڑ اور گند مل گیا ہے اور ایسی شریعت سے انسانوں کو کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا کیونکہ ان کے ہاتھ میں صرف قصے