قائمؔ ہونا اس خالق کی واقعی ہستی پر قطعی دلیل نہیں ہو سکتی اسی لئے انبیاء اور آسمانی نشانوں کی حاجت پڑی کیونکہ دلائل عقلیہ صرف اس حد تک خدا تعالیٰ کی نسبت علم بخشتے ہیں کہ ان مصنوعات پر نظر کر کے جن میں ایک ابلغ اور محکم ترکیب پائی جاتی ہے یہ ضرورت ثابت ہوتی ہے کہ ان کا ایک صانع ہونا چاہئے لیکن یہ دلائل یہ ثابت نہیں کرتے کہ وہ صانع فی الواقع ہے بھی۔ اور ہے اور ہونا چاہئے میں ایک فرق ہے جو اس کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح نہیں کہہ سکتے کہ پہلی کتابیں اور پہلے معجزات خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایک قطعی دلیل ہے کیونکہ اس وقت نہ وہ معجزات بدیہی طور پر مشاہدات میں سے ہیں اور نہ اس وقت وہ کلام نازل ہو رہا ہے ۔ ہاں قرآن شریف معجزہ ہے مگر وہ اس بات کو چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ ایک ایسا شخص ہو کہ اس معجزہ کے جوہر ظاہر کرے اور وہ وہی ہو گا جو بذریعہ الہامی کلام کے پاک کیا جائے گا۔ اب جب کہ انسانی فطرت اور انسانی کانشنس اور انسانی روح شکوک و شبہات کی موت سے مرنا پسند نہیں کرتی اور خدا تعالیٰ کی راہ میں ایک کھلے کھلے یقین کی پیاسی ہے تو اس سے ظاہر ہے کہ جس قادر اور حکیم نے انسان کو یقین حاصل کرنے کی پیاس لگا دی ہے اس نے پہلے سے اس بات کا انتظام بھی کر لیا ہے کہ انسان یقین کے مرتبہ تک پہنچ جائے۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سا انتظام ہے جو یقین تک پہنچاتا ہے سو مجھے چھوڑو تا میں صاف صاف کہہ دوں کہ وہ انتظام ابتدا دنیا سے آج تک ایک ہی چلا آیا ہے یعنی خدا کا قول جس کی تائید اور تصدیق اس کا خارق عادت فعل کرتا ہے اور یہ دھوکا مت کھاؤ کہ خدا کا کلام ایک مرتبہ یا چند مرتبہ جو گزشتہ زمانہ میں ناز ل ہو چکا ہے وہ یقین عطا کرنے کے لئے کافی ہے بار بار کی کیا ضرورت ہے اسی شبہ میں آریہ سماج والے گرفتار ہیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک وید خدا کا کلام ہے اور وہ ایک دفعہ اس موجودہ دَورِ دنیا کے لئے نازل ہو چکا ہے پھر بار بار کی کیا ضرورت ہے۔ لیکن وہ اور ایسا ہی ان کے سب ہم خیال دھوکا کھاتے ہیں اور اس دھوکا میں عیسائی بھی شریک ہیں جو کہتے ہیں کہ توریت نے تعلیم کے حق کو پورا کر دیا تھا پھر قرآن کی کیا ضرورت تھی۔ ان تمام توہمات کا جواب یہی ہے