دیکھؔ لیا ہے اور یہ کہ کیونکر یقین کی آنکھ سے خدا کو دیکھا جاوے اس کا جواب کوئی مجھ سے سنے یا نہ سنے مگر میں یہی کہوں گا کہ اس یقین کے حاصل کرنے کا ذریعہ خدا کا زندہ کلام ہے جو زندہ نشان اپنے اندر اور ساتھ رکھتا ہے جب وہ آسمان پر سے اترتا ہے تو نئے سرے مردوں کو قبروں میں سے نکالتا ہے۔ تم دیکھتے ہو کہ باوجود آنکھوں کے بینا ہونے کے تم آسمانی آفتاب کے محتاج ہو اسی طرح خدا شناسی کی بینائی محض اپنی اٹکلوں سے حاصل نہیں ہو سکتی وہ بھی ایک آفتاب کی محتاج ہے۔ اور وہ آفتاب بھی آسمان پر سے اپنی روشنی زمین پر نازل کرتا ہے یعنی خدا کا کلام۔ کوئی معرفت خدا کے کلام کے بغیر کامل نہیں ہو سکتی۔ خدا کا کلام بندہ اور خدا میں ایک دلالہ ہے وہ اترتا ہے اور خدا کا نور اس کے ساتھ ہوتا ہے اور جس پر وہ اپنے پورے کرشمہ اور پوری تجلی اور پوری خدائی عظمت اور قدرت اور برہنہ کرشمہ کے ساتھ اترتا ہے اس کو وہ آسمان پر لے جاتا ہے۔ غرض خدا تک پہنچنے کے لئے بجز خدا تعالیٰ کے کلام کے اور کوئی سبیل نہیں۔
نظم
کے شوی عاشق رخ یارے
لاجرم عشق دلبرِ خوش خو
ہر کہ ذوق کلام یافتہ است
دوزخی کز عذاب پُرچون خُم
ہست دا روئے دل کلام خدا
تا نشد مشعلے ز غیب پدید
تانہ خود از سخن یقین بخشید
گر یقین نیست بر خدائے یگان
بے یقین و تجلیاتِ یقین
تانہ بر دل رخش کند کارے
خیزد از گفتگو چو دیدن رُو
راز این رہ تمام یافتہ است
اصل آن ہست لا یکلمھم
کے شوی مست جز بجام خدا
از شب تار جہل کس نرہید
کس ززندانِ ریب و شک نرہید
از محالات قوتِ ایمان
کس نہ رستہ زدام دیو لعین
ہم چنین زان لبے دو۲ گفتارے
گفتگو را کشش بود بسیار
زیر لب گفتگو ئے جانانے
دل نہ گردد صفا نہ خیز د بیم
تانہ او گفت خود انا الموجود
تانہ خود را نمود خود دادار
ہر چہ باشد ززہدو صدق و سداد
بے یقین دین و کیش بیہودہ است
بے یقین از گنہ نہ رست کسے
آن کند کارہاکہ دیدارے
بے سخن کم اثر کند دیدار
زندگی بخشدت بیک آنے
تا چو موسیٰ نمیشوی تو کلیم
عقدہ ہستیش کسے نہ کشود
کس ندانست کوئے آن دلدار
بے یقین سست باشدش بنیاد
بے یقین ہیچ دل نیا سودہ ست
دانم احوال شیخ و شاب بسے