جلا ؔ دے گی۔ تم شیر کے آگے اپنے تئیں کھڑا نہیں کرتے کیونکہ تم یقین رکھتے ہوکہ وہ مجھے کھا لے گا۔ تم کوئی زہر نہیں کھاتے کیونکہ تم یقین رکھتے ہوکہ وہ مجھے ہلاک کر دے گی۔ پس اس میں کیا شک ہے کہ بے شمار تجارب سے تم پر ثابت ہو چکا ہے کہ جس جگہ تمہیں یقین ہوجاتا ہے کہ یہ فعل یا یہ حرکت بلا شبہ مجھے ہلاکت تک پہنچائے گی تم فی الفور اس سے رک جاتے ہو اور پھر وہ گناہ تم سے سرزد نہیں ہوتا۔ پھر خدا تعالیٰ کے مقابل پر تم کیوں اس ثابت شدہ فلسفہ سے کام نہیں لیتے کیا تجربہ نے اب تک گواہی نہیں دی کہ بجز یقین کے انسان گناہ سے رک نہیں سکتا۔ ایک بکری یقین کی حالت میں اس مرغزار میں چر نہیں سکتی جس میں شیر سامنے کھڑا ہے پس جب کہ یقین لایعقل حیوانات پر بھی اثر ڈالتا ہے اور تم تو انسان ہو۔ اگر کسی دل میں خدا کی ہستی اور اس کی ہیبت اور عظمت اور جبروت کا یقین ہے تو وہ یقین ضرور اسے گناہ سے بچا لے گا اور اگر وہ نہیں بچ سکا تو اسے یقین نہیں کیا خدا پر یقین لانا اس یقین سے کم تر ہے کہ جو شیر اور سانپ اور زہر کے وجود کا یقین ہوتا ہے۔ سو وہ گناہ جو خدا سے دور ڈالتا ہے اور جہنمی زندگی پیدا کرتا ہے اس کا اصل سبب عدم یقین ہے۔ کاش میں کس دف کے ساتھ اس کی منادی کروں کہ گناہ سے چھڑانا یقین کا کام ہے۔ جھوٹی فقیری اور مشیخت سے توبہ کرانا یقین کا کام ہے۔ خدا کو دکھلانا یقین کا کام ہے۔ وہ مذہب کچھ بھی نہیں اور گندہ ہے اور مردار ہے اور ناپاک ہے اور جہنمی ہے اور خود جہنم ہے جو یقین کے چشمہ تک نہیں پہنچا سکتا۔ زندگی کا چشمہ یقین سے ہی نکلتا ہے اور وہ پر جو آسمان کی طرف اڑاتے ہیں وہ یقین ہی ہے۔ کوشش کرو کہ اس خدا کو تم دیکھ لو جس کی طرف تم نے جانا ہے۔ اور وہ مرکب یقین ہے جو تمہیں خدا تک پہنچائے گا۔ کس قدر اس کی تیز رفتار ہے کہ وہ روشنی جو سورج سے آتی ہے اور زمین پر پھیلتی ہے وہ بھی اس کی سرعت رفتار کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتی اے پاکیزگی کے ڈھونڈنے والو اگر تم چاہتے ہو کہ پاک دل بن کر زمین پر چلو اور فرشتے تم سے مصافحہ کریں تو تم یقین کی راہوں کو ڈھونڈو۔ اور اگر تمہیں اس منزل تک ابھی رسائی نہیں تو اس شخص کا دامن پکڑو جس نے یقین کی آنکھ سے اپنے خدا کو