اس کا یہی جواب ہے کہ جیسا کہ وحی تمام انبیاء علیہم السلام کی حضرت آدم سے لے کر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم تک از قبیل اضغاث احلام و حدیث النفس نہیں ہے۔ ایسا ہی یہؔ وحی بھی اُن شبہات سے پاک اور منزہ ہے۔ اور اگر کہو کہ اُس وحی کے ساتھ جو اس سے پہلے انبیاء علیہم السلام کو ہوئی تھی معجزات اور پیشگوئیاں ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ اکثر گذشتہ نبیوں کی نسبت بہت زیادہ معجزات اور پیشگوئیاں موجود ہیں بلکہ بعض گذشتہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور پیشگوئیوں کو ان معجزات اور پیشگوئیوں سے کچھ نسبت ہی نہیں اور نیز ان کی پیشگوئیاں اور معجزات اس وقت محض بطور قصوں اور کہانیوں کے ہیں مگر یہ معجزات اور پیشگوئیاں ہزارہا لوگوں کے لئے واقعات چشم دید ہیں اور اس مرتبہ اور شان کے ہیں کہ اس سے بڑھ کر متصوّر نہیں یعنی دنیا میں ہزارہا انسان
پرؔ ہم دونوں فریق میں سے *** کی ہے وہ اس وقت ہمارے سامنے رکھے ہیں۔ جو پانچ گواہوں کی شہادت سے وہی نوٹ ہیں جو اس نے اپنی قلم سے کتاب اعجاز المسیح اور شمس بازغہ پر لکھے تھے اور خود اصل نوٹ جن کی یہ نقل اس کے باپ نے ان گواہوں کے حوالہ کی اُس کے گھرمیں موجود* ہے جو اُس کے مباہلہ کی ایک پختہ نشانی ہے جو باوا نانک کے چولہ کی طرح زمانہ دراز تک یادگار رہے گی اور یہ مباہلہ جس کے بعد وہ دو ہفتہ بھی زندہ نہ رہ سکا۔ اُن لوگوں کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے جواب ہے جو کہا کرتے ہیں کہ ہم اس مباہلہ کو مانیں گے جس کے آخری نتیجہ پر دو تین ہفتہ سے زیادہ طول نہ کھچے۔ سو اب ہم منتظر ہیں کہ وہ اس نشان کو مانتے ہیں یا نہیں اور عجیب تر کہ محمد حسن مباہلہ کے بعد مرا۔ اسی طرح غلام دستگیر قصوری کا حال ہوا تھا کہ اس نے بھی محمد حسن کی طرح میری ردّ میں ایک کتاب بنائی اور اس کا نام فتح رحمانی رکھا اور اس کے صفحہ ۲۷ میں جوش میں آکر دعا کر دی جس کا یہ خلاصہ ہے کہ یاالٰہی جو شخص کاذب ہے اور جھوٹ بول رہا ہے اور سچ کو چھوڑ رہا ہے اس کو ہلاک کر۔آمین۔ تب ایک مہینہ بھی اس کتاب کے لکھنے
* بعد اس کے وہ کتابیں محمد حسن کے بیٹے سے ہم کو مل گئیں جن پر اصل نوٹ ہیں یعنی محمد حسن کے خود
دستخطی وہ نوٹ ہیں۔ منہ