اُنؔ کے گواہ ہیں مگر گذشتہ نبیوں کے معجزات اور پیشگوئیوں کا ایک بھی زندہ گواہ پیدا نہیں ہو سکتا باستثناء ہمارے نبی صلی اﷲعلیہ وسلم کے کہ آپ کے معجزات اور پیشگوئیوں کا میں زندہ گواہ موجود ہوں اور قرآن شریف زندہ گواہ موجود ہے اور مَیں وہ ہوں جس کے بعض معجزات اور پیشگوئیوں کے کروڑہا انسان گواہ ہیں۔ پھر اگر درمیان میں تعصب نہ ہو تو کون ایماندار ہے جو واقعات پر اطلاع پانے کے بعد اِس بات کی گواہی نہ دے کہ درحقیقت
پرؔ نہ گذرنے پایا تھا کہ آپ ہلاک ہو گیا اس کی یہ کتاب یعنی فتح رحمانی چھپی ہوئی موجود ہے دیکھو صفحہ ۲۶ و ۲۷ ۔ اَور خدا سے ڈرو۔ یہ دونوں پنجاب کے آدمی ہیں جو اپنے مُنہ سے مباہلہ کرکے آپ ہی مر گئے اگر یہ نشان نہیں تو معلوم نہیں ہمارے مخالفوں کے نزدیک نشان کس چیز کا نام ہے۔ * دوسری محمد حسن کی موت کا موجب وہ پیشگوئی ہے جو اعجاز المسیح کے ٹائٹل پیچ پر لکھی گئی اور وہ یہ ہے۔ من قام للجواب و تنمّر۔ فسوف یری انہ تندّم وتدمّر یعنی جو شخص اس کتاب کے جواب پر آمادہ ہو گا اور پلنگی دکھلائے گا وہ عنقریب دیکھے گا کہ اس کام سے نامراد رہا اور اپنے نفس کا ملامت گر ہوا اور اس سے بڑھ کر کیا نامرادی ہو سکتی ہے کہ محمد حسن حسرت کو ساتھ ہی لے گیا اور مر گیا۔ اور اس ارادہ کو جو کہ وہ عربی کتاب کا عربی میں جواب لکھے پُورا نہ کر سکا اور نہ کچھ شائع کر سکا۔ تیسری محمد حسن کی موت کا موجب وہ دُعائے مباہلہ ہے جو اعجاز المسیح کے صفحہ ۱۹۹ میں کی گئی تھی۔ چوتھے محمد حسن کی موت کا موجب وہ وحی الٰہی ہے جو مُدّت ہوئی جو دنیا میں شائع ہو چکی یعنی یہ کہ انّی مھین من اراد اھانتک یعنی مَیں اُس کو ذلیل کروں گا جو تیری ذلت چاہتا ہے۔ پس چونکہ اس نے اعجاز المسیح پر قلم اٹھا کر میری ذلت کا ارادہ کیا اس لئے خدا نے اُس کو ذلیل کر دیا اور اپنے مُنہ سے موت مانگ کر چند روز میں ہی مر گیا اور اپنی موت کو ہمارے لئے ایک نشان چھوڑ گیا۔ فالحمد للّٰہ علٰی ذالک۔ منہ
* اسی طرح محی الدین لکھو کے والے کا حال ہوا جب اس نے یہ الہام چھپوایا کہ ’’مرزا صاحب فرعون‘‘ تب اس کی وفات سے پہلے میں نے اس کو بذریعہ ایک خط کے جو اگست ۱۸۹۴ء کو لکھا گیا تھا اطلاع دی کہ اب وہ فرعون کی طرح اِس موسیٰ کے سامنے اپنی سزا کو پہنچے گا۔ چنانچہ انہیں دِنوں اور اس کی زندگی میں وہ خط الحق سیالکوٹ میں چھپا اور پھر اُس کے مَرنے کے بعد اس نشان کے اظہار کے لئے وہی خط مع اس کی تاریخ وفات کے اخبار الحکم قادیان مورخہ ۲۴؍ جولائی ۱۹۰۱ء میں چھاپا گیا۔ دیکھو الحکم ۲۴؍ جولائی ۱۹۰۱ء صفحہ ۵ کالم ۲ و ۳ ۔ منہ