( ) ۱؂ کے سننے سے کوئی دعویٰ کر سکتا ہے کہ مَیں نبی و رسول ہوں اور نئی نماز و زکوٰۃ کا حکم میرے پر نازل ہوا ہے ہرگز نہیں۔ اگر یہ نہیں کر سکتا تو پھر آیت ۲؂ کے الہام ہونے سے بروزی رسالت کو (رسولہ) کے لفظ سے کس طرح مراد لے سکتا ہے۔ بینوا وانصفوا۔ الغرؔ ض برتقدیر تسلیم الہام بآیۃ مذکورہ کادیانی کو استحقاق (رسول) کہلوانے کا ہرگز نہیں پہنچتا۔ بفرض محال اگر آیت مذکورہ کے سننے سے (رسول) کہلوانے کے مستحق بنیں تو اُسی معنے سے رسول ہوں گے جو معنے آیت مذکورہ میں مراد ہے یعنی رسول اصلی ورنہ دلیل دعویٰ پر منطبق نہ ہوگی۔ کیونکہ دعویٰ میں رسول ظلّی اور دلیل یعنی (ارسل رسُولہ) میں رسول اصلی ع ببیں تفاوت راہ از کجاست تابہ کجا * اور نیز (رسولہ) سے رسول ظلّی مراد لینے کی تقدیر پر تحریف معنوی کلام الٰہی میں لازم آوے گی۔ لہٰذا استدلال بآیت مسطورہ بلند آواز سے پکار رہا ہے کہ کادیانی رسول اصلی ہونے کا مدعی ہے۔ چنانچہ اس کا للکار کر کہلوانا بھی اِس پر شاہد ہے ۔ کیونکہ صرف فنا فی الرسول ہونا اس کا مقتضیا نہیں۔ پھر اُسی اشتہار میں متصل عبارت منقولہ بالا کے لکھتے ہیں۔ ’’پھر اس کے بعد اسی کتاب میں میری نسبت یہ وحی اﷲ ہے۔ جَری اﷲ فی حلل الانبیاء یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلّوں میں۔ دیکھو براہین صفحہ ۵۰۴۔‘‘ الجواب اوّل یہ وسوسہ پیر جی کا کہ کیوں یہ تمہاری وحی از قبیل اضغاث احلام اور حدیث النفس نہیں ہے۔ اپنی غلطیوں کی حتی المقدور اصلاح کرتا۔ مگر یہ سوال کہ اس قدر جلد تر کیوں موت آ گئی اِس کا جواب یہی ہے کہ اس موت کی تین وجہ ہیں۔ اوّل تو یہی کہ اُس نے اِن نوٹوں میں اپنے مُنہ سے موت مانگی۔ اور اپنے ہاتھ سے کتاب پر لکھا کہ *** اﷲ علی الکاذبین۔ چنانچہ جن نوٹوں میں اُس نے فریق کاذب *خدا کی وحی پر یہ دلیل پیش کرنا قیاس مع الفاروق ہے۔ وہ اپنی کلام میں ہر ایک اختیار رکھتا ہے۔ اُس نے رسول کا لفظ اُن رسولوں کے لئے بھی استعمال کیا ہے کہ جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے بہت کمتر تھے اور آپ کے لئے بھی جو سب سے افضل بلکہ سب کے لئے بطور افعل کے ہیں وہی رسول کا لفظ استعمال ہوا۔ اور آیات کے معنوں میں تحریف وہ ہے جو انسان کرے نہ کہ جو خود خدا ایک آیت کے دوسرے معنے کرے وہ بھی تحریف ہے۔ من المؤلّف