’’اقولؔ ۔ یہ آیت سورۂ فتح کے رکوع اخیر میں موجود ہے جس میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی رسالت اور آپ کے دین پاک کے غالب کر دینے کا ذکر ہے کوئی عاقل کہہ سکتا ہے کہ اگر کسی شخص کو خواب میں یا بیداری میں آیت مذکورہ سُنائی دے جیسا کہ اکثر حفاظ اور شاغلین کو کثرت استعمال و خیال کے سبب سے ایسا ہوا کرتا ہے۔ فرض کیا بذریعہ الہام ہی سہی۔ تو کیا وہ شخص بشہادت اس آیت کے رسول کہلوانے کا مجاز بہت جلدی منگا کر روانہ فرماویں کیونکہ لڑکا صرف ایک ماہ کی رخصت پر گھر میں آیا ہے۔ اس عرصہ کے انقضاء پر اس نے کتاب لاہور لے جانی ہے اور پھر کتاب کا ملنا متعذر ہو جائے گا۔ چکوال سے تلاش کریں شاید نسخہ مل جاوے تو حامل عریضہ کے ہاتھ روانہ فرماویں اور اپنا آدمی بھی ساتھ بھیج دیں تاکہ کتاب لے جاوے۔ امید ہے کہ میری یہ ناچیزخدمت حضرت مرزا صاحب اور آپ کی جماعت قبول فرما کر میرے لئے دُعاء خیر فرمائیں گے لیکن میرا التماس ہے کہ میرا نام بالفعل ہرگز ظاہر نہ کیا جاوے تاکہ پھر بھی مجھ سے ایسی مدد مل سکے۔ مولوی شہاب الدین کی جانب سے السلام علیکم ۔ والسلام خاکسار محمد کرم الدین عفی عنہ از بھیں تحصیل چکوال ۳؍ اگست ۱۹۰۲ ؁ء پیر مہر علی شاہ کے کارڈ کی نقل جس میں وہ اقرار کرتا ہے کہ کتاب سیف چشتیائی درحقیقت محمد حسن کا مضمون ہے کارڈ۔محبی و مخلصی مولوی کرم الدین صاحب سلامت باشند و علیکم السلام ورحمۃ اﷲ۔ اما بعد یک نسخہ بذریعہ ڈاک یا کسے آدم معتبر فرستادہ خواہد شد۔ آپ کو واضح ہو کہ اس کتاب (سیف چشتیائی) میں تردید متعلق تفسیرفاتحہ (یعنی اعجاز المسیح) جو فیضی صاحب مرحوم ومغفور کی ہے باجازت* اُن کے مندرج ہے۔ چنانچہ فیما بین تحریراً و نیز مشافۃً جہلم میں قرارپا چکا تھا بلکہ فیضی صاحب مرحوم کی درخواست پر مَیں نے تحریر جواب شمس بازغہ پر مضامین ضرور یہ لاہور میں اُن کے پاس بھیج دئے تھے اور ان کو اجازت دی تھی کہ وہ اپنے نام پر طبع کرا دیویں۔ افسوس کہ حیات نے وفا نہ کی اور نہ وہ میرے مضامین مرسلہ لاہور میں مجھے ملے۔آخر الامر مجھ کو ہی یہ کام کرنا پڑا۔ لہٰذا آپ سے ان کی کتابیں مستعملہ منگوا کر تفسیر کی تردید * اگر اجازت سے یہ کام تھا چوری سے نہیں تھا تو کیوں کتاب میں محمد حسن کا ذکر نہیں کیا گیا کہ اس کی اجازت سے مَیں نے اس کے مضمون لکھے ہیں اور کیوں جُھوٹ بولا گیا کہ یہ مَیں نے تالیف کی ہے اور کیوں اپنی کتاب میں اس کی کوئی تحریر طبع نہیں کی جس میں ایسی اجازت تھی اور کیوں اُس وقت تک خاموش رہا جب تک کہ خدا نے پردہ دری کر دی اور چوری پکڑی گئی۔ من المؤلف