’’دیکھوؔ اشتہار مذکور ‘‘ (۵ ؍ نومبر ۱۹۰۱ء جس کا عنوان ہے ایک غلطی کا ازالہ) صفحہ (۱) سطر (۱۳) چنانچہ وہ مکالماتِ الہٰیّہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہو چکے ہیں۔ اُن میں سے ایک یہ وحی اﷲ ہے ھو الّذی ارسل رسُولہٗ بالھُدیٰ و دین الحقّ لیظھرہٗ علی الدّین کلّہ دیکھو صفحہ ۴۹۸ براہین احمدیہ۔ اِس میں صاف طور پر اِس عاجز کو رسول کرکے پُکارا گیا ہے۔
دُوسرا خط مولوی کرم الدین صاحب بنام حکیم فضل دین صاحب معتبرایں عاجز
مکرم معظم بندہ جناب حکیم صاحب مدّظلّہ العالی
السلام علیکم ورحمۃ اﷲ و برکاتہٗ ۔ ۳۱ ؍ جولائی کو لڑکا * گھر پہنچ گیا۔ اُسی وقت سے کار معلومہ کی نسبت اس سے کوشش شروع کی گئی پہلے تو کتابیں دینے سے اُس نے سخت انکار کیا اور کہا کہ کتابیں جعفر زٹلی کی ہیں اور وہ مولوی محمد حسن مرحوم کا خط شناخت کرتا ہے اور اُس نے بتاکید مجھے کہا ہے کہ فوراً کتابیں لاہور زٹلی کے پاس پہنچا دوں لیکن بہت سی حکمت عملیوں اور طمع دینے کے بعد اُس کو تسلیم کرایا گیا مبلغ چھ روپیہ معاوضہ پر آخر راضی ہوا۔ اور کتاب اعجاز مسیح کے نوٹوں کی نقل دُوسرے نسخہ پر کرکے اصل کتاب جِس پر مولوی مرحوم کی اپنی قلم کے نوٹ ہیں ہمدست حامل عریضہ ابلاغ خدمت ہے کتاب وصول کرکے اس کی رسید حامل عریضہ کو مرحمت فرماویں اور نیز اگر موجود ہوں تو چھ روپے بھی حامل کو دے دیجئے گا تاکہ لڑکے کو دے دئے جاویں اور تاکہ دُوسری کتاب شمس بازغہ کے حاصل کرنے میں دِقت نہ ہو۔ کتاب شمس بازغہ کا جس وقت بے جلد نسخہ آپ روانہ فرمائیں گے فوراً اصل نسخہ جس پر نوٹ ہیں اسی طرح روانہ خدمت ہو گا آپ بالکل تسلّی فرماویں۔ انشاء اﷲ تعالیٰ ہرگز وعدہ خلافی نہ ہو گی۔ اس لڑکے نے کہا ہے کہ اور بھی مولوی مرحوم کے ہاتھ کے لکھے ہوئے کئی ایک نوٹ ہیں جو تلاش پر مل سکتے ہیں۔ جس وقت ہاتھ لگے تو اُن کا معاوضہ علیحدہ اُ س سے مقرر کرکے نوٹ قلمی فیضی مرحوم بشرط ضرورت لے کر ارسال خدمت ہوں گے آپ شمس بازغہ کا نسخہ
* لڑکے سے مراد محمد حسن متوفی کا لڑکا ہے جو اس کا وارث ہے اُسی نے بقول مولوی کرم دین صاحب چھ روپے نقد لے کر دونوں کتابیں یعنی اعجاز المسیح اور شمس بازغہ جن پر محمد حسن مذکور کے دستخطی نوٹ تھے ہم کو دے دیں اور مہر علی کی پردہ دری کا یہی موجب ہوا۔ من المؤلّف