یہ ؔ اعتراضات دیانت اور تقویٰ اور حق پرستی کی راہ سے کئے گئے ہیں یا بددیانتی اور ترک تقویٰ اور دھوکہ دہی اور ظلم اور تعصّب کے طریق سے لکھے گئے ہیں اور ہم اُن کے تمام اعتراضات اس جگہ بجنسہٖ اُن کی عبارت میں ہی نقل کر دیتے ہیں تا خلاصہ کرنے کی حالت میں شبہات پیدا نہ ہوں اور وہ یہ ہیں:۔ نقل مطابق اصل ازکتاب سیف چشتیائی صفحہ ۶ و ۷ و ۸ ’’ نبوت اصلیّہ کے مدّعی ہونے کا ثبوت اور اُس کی تردید‘‘ کے باپ کی تحویل میں ہیں اس واسطے جناب کی خدمت میں وہ کتابیں بھیجنا مشکل ہے۔ کیونکہ اُن کا خیال آپ کے خلاف میں ہے اور وہ کبھی بھی اس امر کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ہاں یہ ہو سکے گا کہ اُن نوٹوں کو بجنسہٖ نقل کرکے آپ کے پاس روانہ کیا جائے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی خاص آدمی جناب کی جماعت سے یہاں آ کر خود دیکھ جائے۔ لیکن جلدی آنے پر دیکھاجاسکے گا۔ پیر صاحب کا ایک کارڈ جو مجھے پرسوں ہی پہنچا ہے باصلہا جناب کے ملاحظہ کے لئے روانہ کیا جاتا ہے جس میں انہوں نے خود اِس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مولوی محمد حسن کے نوٹ انہوں نے چُرا کر سیف چشتیائی کی رونق بڑھائی ہے لیکن ان سب باتوں کو میری طرف سے ظاہر فرمایا جانا خلاف مصلحت* ہے۔ ہاں اگر میاں شہاب الدین کا نام ظاہر بھی کر دیا جائے تو کچھ مضائقہ نہ ہو گا۔ کیونکہ مَیں نہیں چاہتا کہ پِیر صاحب کی جماعت مجھ پر سخت ناراض ہو۔ آپ دُعا فرماویں کہ آپ کی نسبت میرا اعتقاد بالکل صاف ہو جاوے اور مجھے سمجھ آجاوے کہ واقعی آپ ملہم اور مامورمن اﷲ ہیں۔ جناب مولوی عبدالکریم صاحب و مولانا مولوی نور الدین صاحب کی خدمت میں دست بستہ السلام علیکم عرض ہے۔ زیادہ لکھنے میں ضیق وقت مانع ہے۔میاں شہاب الدین کی طرف سے بعد سلام علیکم مضمون واحد ہے۔ والسلام خاکسار محمد کرم الدین عفی عنہ از بِھیں تحصیل چکوال مورخہ ۲۱ ؍ جولائی ۱۹۰۲ء * مولوی کرم الدین صاحب کو سہواً اِس طرف خیال نہیں آیا کہ شہادت کا پوشیدہ کرنا سخت گناہ ہے جس کی نسبت اٰثم قلبہٗ کا قرآن شریف میں وعید موجود ہے۔ لہٰذ اتقویٰ یہی ہے کہ کسی لوم لائم کی پروانہ کریں اور شہادت جو اپنے پاس ہو ادا کر دیں۔ سو ہم اِس بات سے معذور ہیں جو جرم اخفاء کے ممدو معاون بنیں۔ اور مولوی کرم الدین صاحب کا یہ اخفاء خدا کے حکم سے نہیں ہے صرف دِلی کمزوری ہے ۔ خدا ان کو قوت دے۔ ۱۲ من المؤلف