ایک ؔ سو روپیہ انعام دیا جائے گا ان کا اختیار ہے کہ یہ انعام کسی بینک میں پہلے جمع کرا دیں۔ اب بالخصوص میاں مہر علی صاحب کو اس مقابلہ سے بالکل نہیں ڈرنا چاہئیے کیونکہ ان کو معلوم ہو گیا ہے کہ سرقہ کے ذریعہ سے نظم اور نثر طیار ہو سکتی ہے تو گویا اب ان کو اس کام کی کَل ہاتھ آ گئی ہے سو اب یقین ہے کہ اس کل کی وجہ سے ان کی تمام بُزدِلی دُور ہو جائے گی بلکہ وہ اِس لائق بھی ہو جائیں گے کہ بالمقابل حوصلہ کرکے کسی سُورۃ کی تفسیر بھی لکھ سکیں کیونکہ اب تو بات اب ہم اس با ت کے ثابت کرنے کے لئے کہ درحقیقت پیر مہر علی صاحب نے اپنی کتاب سیف چشتیائی میں جس کو درحقیقت طنبورچشتیائی کہنا چاہئیے اپنی طرف سے اور اپنے دماغ سے کام لے کر کچھ نہیں لکھا بلکہ اس میں تمام و کمال چوری کا سرمایہ جمع کردیا اور چوری بھی مُردہ کے مال کی جوہر طرح قابلِ رحم تھا مفصلہ ذیل ثبوت پیش کرتے ہیں۔ نقل خط میاں شہاب الدین ساکن بِھیْں پہلے ہم صفائی بیان کے لئے لکھنا چاہتے ہیں کہ میاں شہاب الدین جن کا نام عنوان میں درج ہے۔ یہ محمدحسن متوفّی کے دوست ہیں اورعلاوہ اس کے یہ اس بدقسمت وفات یافتہ کے ہمسایہ بھی ہیں اور اس کے اسرار سے واقف۔ اور انہیں کی کوشش سے پیر مہر علی شاہ کے سرقہ کا مقدمہ برآمد ہوا۔ اور بڑی صفائی سے ثابت ہو گیا کہ اس کی کتاب سیف چشتیائی مال مسروقہ ہے اور اس میں مہر علی کی عقل اور علم کا کچھ بھی دخل نہیں اور بجز اس کے کہ وہ اِس کارروائی سے نہ صرف جُرم سرقہ کا مرتکب ہوا بلکہ اُس نے اِس شیخی کو حاصل کرنے کے لئے بہت قابلِ شرم جُھوٹ بولا اور اپنی کتاب سیف چشتیائی میں اُس مُردہ بدقسمت کا نام تک نہیں لیا اور بڑے زور اور دعویٰ سے کہا کہ اِس کتاب کا مَیں مؤلف ہوں چنانچہ نقل خطوط یہ ہے۔ پہلے خط کی نقل مرسل یزدانی و مامور رحمانی حضرت اقدس جناب مرزا جی صاحب دام برکاتکم و فیوضکم