ہو ؔ نگے تو پھر بلاشبہ ہمارا یہ دعویٰ باطل ہو جائے گا کہ اعجازی طاقت جو انشاء پردازی اور نظم اور نثر میں ہے یہ بھی خدا کا ایک نشان ہے جو ہمارے مسیح موعود ہونے پر ایک گوا ہ ہے بلکہ ہم خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر حلفی وعدہ کرتے ہیں کہ اگر اس عرصہ میں اسی تعداد کے لحاظ سے انہیں مضامین کی پابندی سے ان کے اشعار مقرر کردہ منصفوں کی شہادت سے جو اہل علم ہوں گے ہمارے اشعار سے فصاحت بلاغت کے رُو سے بہتر ثابت ہوں تودونوں مخاطبین کو ایک
کتاب کے جواب کا ارادہ کرے گا وہی نامراد رہے گا۔ سو اس سے زیادہ کیا نامرادی ہے کہ وہ اپنی لغو کتاب کوچھاپ ہی نہ سکا اور مَر گیا اور پھراس کے مُردار کو چُرا کر پیر مہر علی نے اپنی کتاب میں کھایا اور وہ بھی نامراد رہا کیونکہ مہر علی کی غرض یہ تھی کہ اس کتاب کے لکھنے سے اپنی مشیخت ظاہر کرے کہ مَیں بھی عربی خوان ہوں اور ادیب ہوں مگر بجائے ناموری کے اس کا چور ہونا ثابت ہوا۔ کون اس سے تعجب نہیں کرے گا کہ چور بھی ایسا دلیر چور نکلا کہ مُردہ کی ساری کتاب کو نگل گیا اور ڈکار نہ لیا اور محمد حسن بدقسمت کا ایک دفعہ بھی ذکر نہ کیا۔ اَور ایک دوسرا نشان یہ ہے کہ اسی کتاب اعجازالمسیح کے صفحہ ۱۹۹ میں مَیں نے یہ دُعا کی تھی ربّ ان کنت تعلم ان اعدائی ھم الصادقون المخلصون فاھلکنی کما تُھلک الکذّابون۔ وان کنت تعلم انی منک و من حضرتک فقم لنصرتی۔ ترجمہ۔ یعنی اے میرے خدا اگر تُو جانتا ہے کہ میرے دشمن سچے ہیں اور مخلص ہیں پس تُو مجھے ہلاک کر جیسا کہ تُو جُھوٹوں کو ہلاک کرتا ہے اور اگر تُو جانتا ہے کہ مَیں تیری طرف سے ہوں تو دشمن کے مقابل پر میری مدد کرنے کے لئے تُو کھڑا ہو جا۔ پس صاف ظاہر ہے کہ اِس کتا ب اعجاز المسیح کے شائع ہونے کے بعد محمد حسن بھیں مقابلہ کے لئے میدان میں نکلا۔ اس لئے بموجب اِس مباہلہ کی دُعا کے مارا گیا۔