بہت ؔ سہل ہوگئی دوسرے لوگوں کی عبارتیں چُرالیں اور تفسیر کولِکھ مارا لیکن اوّل ہم اُن اشعار کے مقابل پر ان بزرگوں کی علمی طاقت کا نمونہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر اس نمونہ میں پیر مہر علی صاحب نے اپنی کرامت دِکھلا دی تو پھر یقین ہے کہ وہ تفسیر نویسی میں بھی گذشتہ بُزدلی کو دُور کرکے سیدھی نیت سے میرے مقابل پر آجائیں گے لیکن کل کے دِن جبکہ ہمیں موضع بِھیْں سے پیرمہرعلی کی اس کرتوت پر اطلاع ہوئی۔ جس کی تفصیل حاشیہ میں درج ہے تب سے ہم ایسا السّلام علیکم ورحمۃ اﷲ و برکاتہ۔ امّابعد۔ آپ کا خط رجسٹری شدہ آیا۔ دل غمناک کو تازہ کیا۔ روئداد معلوم ہوئی ۔ حال یہ ہے کہ محمد حسن کا مسودہ علیحدہ تو خاکسار کو نہیں دکھایا گیا کیونکہ اُس کے مَرنے کے بعد اس کی کتابیں اور سب کاغذات جمع کرکے مقفّل کئے گئے ہیں۔ شمس بازغہ اور اعجاز المسیح پر جو مذکور نے نوٹ کئے تھے وہ دیکھے ہیں۔ اور وُہی نوٹ گولڑی ظالم نے کتابیں منگوا کر درج کر دیئے ہیں اپنی لیاقت سے کچھ نہیں لکھا۔ اب محمد حسن کا والد وغیرہ میرے تو جانی دشمن بن گئے ہیں۔ کتابیں تو بجائے خود ایک ورقہ تک نہیں دکھاتے۔ پہلے بھی دیکھنے کا ذریعہ یہ ہوا تھا کہ جب گولڑی نے کتابیں یعنی شمس بازغہ اور اعجاز المسیح محمد حسن کے والد سے منگوائیں اور فارغ ہو کر واپس روانہ کیں توچونکہ وہ حامل کتب اجنبی تھا اِس لئے بھول کر میرے پاس مسجد میں آیا اور کہنے لگا کہ مولوی محمد حسن کا گھر کدھر ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا کام۔ کہنے لگا کہ مہر علیشاہ نے مجھ کو کتابیں دے کر روانہ کیا ہے کہ مولوی محمد حسن کے والد کو یہ کتابیں شمس بازغہ اور اعجاز المسیح دے آ۔ پھر مَیں نے کتابیں لے کر دیکھیں تو ہر صفحہ ہر سطر پر نوٹ ہوئے ہوئے دیکھے۔ میرے پاس سیف چشتیائی بھی موجود تھی عبارت کو ملایا تو بعینہٖ وہ عبارت تھی۔ آپ کا حکم منظور لاکن محمد حسن کا والد کتابیں نہیں دیتا اور کہتا ہے کہ میرے رُوبرو بے شک دیکھ لو۔ مگر مہلت کے واسطے نہیں دیتا۔ خاکسار معذور ہے کیا کرے*۔ دوسری مجھ سے * پھر بعد اس کے محمد حسن کے بیٹے نے جو اصل وارث ہے مبلغ 3۶ روپے لے کر وہ دونوں کتابیں جن پر محمد حسن متوفی کے نوٹ درج ہیں میرے معتبر کو دے دیں اور اب وہ میرے پاس موجود ہیں جن سے پیر مہر علی کی چوری ایسی کھلتی ہے جیسا کہ کوئی چور عین نقب لگاتے وقت پکڑا جائے۔ فالحمد للّٰہ علٰی ذالک۔ سچ فرمایا اﷲ تعالیٰ نے انّی مھین من اراد اھانتک۔ ۱۲ من المؤلف