مگرؔ شرط یہ ہے کہ اُس تاریخ سے کہ یہ رسالہ شائع ہو ٹھیک ٹھیک عرصہ بیس یوم تک اِسی مقدار اور اسی بلاغت فصاحت کے لحاظ سے اور انہیں مضامین کے مقابل پر اشعار بنا کر اور طبع کرا کر ملک میں شائع کر دیں ورنہ اخبار کے ذریعہ سے اُن کا عجز شائع کر دیا جائے گا۔ اور ہم دوبارہ اقرار کرتے ہیں کہ اگر ان اشعار میں تاریخ معیّنہ کے اندر وہ ہمارا مقابلہ کر سکیں گے۔ اور اہلِ علم کی شہادت سے اُن کے اشعار ہمارے اشعار کے ہم مرتبہ ہوں گے اور تعداد میں بھی برابر فقروں کا سرقہ میری طرف منسوب کرنے کے ساتھ ہی خود ایک پوری کتاب کا سارق ثابت ہو گیا۔ اگر اُس کا اعتراض صحیح تھا تو کیوں خدا تعالیٰ نے اُس کو رُسوا کیا اور جب لوگوں میں مشہور ہو گیا کہ مہر علی نے ایک مُردہ کا مضمون چرا کر کفن دُزدوں کی طرح قابل شرم چوری کی ہے اور بعض اُس کے دوستوں نے اُس کی طرف خط لکھے کہ ایسا کرنا مناسب نہ تھا تو یہ جواب دیا کہ مَیں نے محمد حسن مُردہ سے اجازت لے لی تھی صاف ظاہر ہے کہ اگر محمد حسن مُردہ اجازت دیتا تو اپنی زندگی میں ہی دیتا مسودہ اس کے پاس بھیجتا نہ یہ کہ اُس کے مَرنے کے بعد اُس کی بیوہ کے پاس سے منگوایا جاتا اور پھر بہرحال یہ ذکر تو کرنا چاہئیے تھا کہ مَیں بذاتِ خود عربیت اور علم ادب سے بے نصیب ہوں اور یہ مسودات محمد حسن مُردہ کے مجھے ملے ہیں مگر کہاں ذکر کیا۔ بلکہ بڑے فخر سے دعویٰ کیا کہ یہ کتاب مَیں نے آپ بنائی ہے۔ دیکھو اہل حق پر حملہ کرنے کا یہ اثر ہوتا ہے کہ مجھے چند فقرہ کا سارق قرار دینے سے ایک تمام و کمال کتاب کا خود چور ثابت ہو گیا اور نہ صرف چور بلکہ کذّاب بھی کہ ایک گندہ جھوٹ اپنی کتاب میں شائع کیا اور کتاب میں لکھ مارا کہ یہ میری تالیف ہے حالانکہ یہ اُس کی تالیف نہیں۔ کیوں پیر جی اب اجازت ہے کہ اس وقت ہم بھی کہہ دیں کہ لَعْنَۃُ اللّٰہ علی الکاذبین۔ رہا محمد حسن پس چونکہ وہ مَر چکا ہے۔ اس لئے اُس کی نسبت لمبی بحث کی ضرورت نہیں وہ اپنی سزا کو پہنچ گیا۔ اُس نے جھوٹ کی نجاست کھا کر وہی نجاست پیرصاحب کے مُنہ میں رکھ دی۔مَیں نے کتاب اعجاز المسیح کے سر پر بطور پیشگوئی بیان کر دیا تھا کہ جو شخص اِس