درخواؔ ست یہ ہے کہ ان اشعار کی برعایت تعداد و پابندی مضمون نظیر پیش کرکے پیر صاحب اپنی کرامت دکھلاویں ۔ اور علی حائری صاحب امام حسین کی کرامت۔ اگر ایسا کر دکھائیں اور جس قدر تعداد میں ہم نے یہ شعر لکھے ہیں اور جن مضامین کے متعلق یہ اشعار ہیں۔ اگر ان دونوں شرطوں کو بلاغت فصاحت کے پَیرایہ میں یہ دونوں بزرگ یا کوئی اُن میں سے پُورا کر دکھائیں گے تو ہم قبول کر لیں گے کہ اِس بارے میں ہمارا معجزہ کا دعویٰ باطل ہے۔
گذارہ کے لئے اُس کتاب میں سے حصّہ رکھ دیتا جس حالت میں محض لاف زنی کے طور پر اُس نے یہ مشہور کیا ہے کہ مَیں نے یہ کتاب مفت تقسیم کی ہے تو کس قدر ضروری تھا کہ وہ کتاب کے ابتدا میں لکھ دیتا کہ مَیں اپنا حق تو اِس کتاب کے متعلق چھوڑتا ہوں لیکن چونکہ دراصل یہ کتاب محمد حسن کی تالیف ہے جس کو مَیں نے بطور سرقہ اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ اِس لئے مَیں اُس کی بیوہ کے گذارہ کے لئے ۴ ؍ فی جلد خریداروں سے مانگتا ہوں۔ تا وہ چکّی پِیسنے کی مصیبت سے بچے۔ اور اگر وہ ایسا طریق اختیار کرتا اور فی جلد ۴ ؍ وصول کرکے مصیبت زدہ بیوہ کو دیتا تو اِس رُوسیاہی سے کسی قدر بچ جاتا مگر ضرور تھا کہ وہ اِس قابل شرم چوری کا ارتکاب کرتا تا خدا تعالیٰ کا وہ کلام پُورا ہوجاتا کہ جو آج سے کئی برس پہلے میرے پر نازل ہوا اور وہ یہ ہے انّی مھین من اراد اھانتک یعنی مَیں اُس کی اہانت کروں گا جو تیری اہانت کا ارادہ کرے گا۔ اس شخص نے کتاب سیف چشتیائی میں میرے پر الزام سرقہ کا لگایا تھا اور سرقہ یہ کہ کتاب اعجاز المسیح کے تقریباً بیس ہزار فقرہ میں سے دو چار فقرے ایسے ہیں جو عرب کی بعض مشہور مثالیں یا مقامات حریری وغیرہ کے چند جملے ہیں جو الہامی توارد سے لکھے گئے۔
اور اپنی کرتُوت اس کی اب یہ ثابت ہوئی جو محمد حسن مُردہ کا سارامسودہ اپنے نام منسوب کر لیا اور اُس بدبخت کا ذکر تک نہ کیا۔ اب دیکھو یہ خدا تعالیٰ کا نشان ہے یا نہیں کہ دوچار