ٹھہرؔ ایا ہے اور چور قرار دیا ہے اور بار بار بطور مباہلہ میرے پر *** بھیجی ہے اِس لئے مَیں اپنی بریت پبلک پر ظاہر کرنے کے لئے تیسری دفعہ پیر مہر علی شاہ صاحب کو موقعہ دیتا ہوں اور وہ یہ کہ ہم نے ارادہ کیا ہے کہ ہم اس رسالہ کے آخر میں اگرخدا تعالیٰ نے چاہا تو چند عربی اشعار لکھیں گے اور پیر مہر علی صاحب سے اور نیز ایک اور شخص سے جو شیعہ ہے اور علی حائری کے نام سے موسوم ہے اِن اشعار کی مثل کا مطالبہ کریں گے۔ اور لکھتا ہے کہ مَیں ہر ایک شخص کو جو مہر علی کی اِس خیانت کو دیکھنا چاہے اُس کی یہ قابلِ شرم چوری دکھا سکتا ہوں بلکہ اُس نے خود پیر مہر علی شاہ کا دستخطی ایک کارڈ بھیج دیا ہے جس میں وہ اس چوری کا اقرار کرتا ہے لیکن بعد اس کے یہ بیہودہ جواب دیتا ہے کہ اُس نے اپنی زندگی میں مجھے اجازت دے دی تھی کہ اپنے نام پر اس کتاب کو چھاپ دیں لیکن یہ عذر بد تر از گناہ ہے کیونکہ اگر اس کی طرف سے یہ اجازت تھی کہ اُس کے مَرنے کے بعدمہر علی اپنے تئیں اس کتاب کا مؤلّف ظاہر کرے تو کیوں مہر علی نے اس کتاب میں اس اجازت کا ذکر نہیں کیا اور کیوں دعویٰ کر دیا کہ مَیں نے ہی اس کتاب کو تالیف کیا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ تو بے ایمانی کا طریق ہے کہ ایک شخص وفات یافتہ کی کُل کتاب کو اپنی طرف منسوب کر لیا اور اُس کا نام تک نہ لیا۔ جس حالت میں محمد حسن نے خداتعالیٰ کا مقابلہ کرکے اپنے تئیں اعجاز المسیح کے ٹائیٹل پیج کی مندرجہ پیشگوئی انّہ تندّم و تذمّر کے موافق ایسا نامراد بنایا کہ جان ہی دے دی اور پھر اعجاز المسیح صفحہ ۱۹۹ کی مباہلانہ دُعا کا مصداق بن کر اپنے تئیں ہلاکت میں ڈال لیا تو ایسے کشتہ مقابلہ کے احسان کا ذکرکرنا بہت ضروری تھا اور دیانت کا یہ تقاضا تھا کہ پیر مہر علی شاہ صاف لفظوں میں لِکھ دیتا کہ یہ کتاب میری تالیف نہیں ہے بلکہ محمد حسن کی تالیف ہے اور مَیں صرف چور ہوں نہ یہ کہ دروغگوئی کی راہ سے خطبہ کتاب میں اس تالیف کو اپنی طرف منسوب کرتا بلکہ چاہئیے تھا کہ اُس بدقسمت وفات یافتہ کی بیوہ کے