توؔ بمقابلہ ساڑھے باراں جُز کی کتاب کے ایک جُز بھی نہ لکھ سکے اور اتنی ضخیم کتاب میں سے دو چار فقرے پیش کر دئے کہ یہ فلاں کتاب میں موجود ہیں۔ اب سوچو کہ یہ کس قدر کمینگی ہے۔ کیا کوئی اہلِ ادب اس کو پسند کر ے گا۔ ادیب جانتے ہیں کہ ہزارہا فقرات میں سے اگر دوچار فقرات بطور اقتباس ہوں تو اُن سے بلاغت کی طاقت میں کچھ فرق نہیں آتا بلکہ اس طرح کے تصرّفات بھی ایک طاقت ہے۔ دیکھو سبعہ مُعلقہ کے دو شاعروں کا ایک مصرعہ پر توارد ہے اور وہ یہ ہے۔
ایک شاعر کہتا ہے یقولون لا تھلک اسًی و تجمّلٖ
اَور دُوسرا شاعر کہتا ہے یقولون لَا تھلک اسًی و تجلّدٖ
اب بتلاؤ کہ ان دونوں میں سے چور کون قرار دیا جائے ۔ نادان انسان کو اگر یہ بھی اجازت دی جاوے کہ وہ چُر اکر ہی کچھ لکھے تب بھی وہ لکھنے پر قادر نہیں ہو سکتا کیونکہ اصلی طاقت اُس کے اندر نہیں مگر وہ شخص جو مسلسل اور بے روک آمد پر قادر ہے اس کا تو بہرحال یہ معجزہ ہے کہ اُمور علمیہ اور حکمیّہ اور معارف حقائق کو بلاتوقف رنگین اور بلیغ فصیح عبارتوں میں بیان کر دے گو محل پرچسپاں ہو کر دس ہزار فقرات بھی کسی غیر کی عبارتوں کا اُس کی تحریر میں آ جائے کیا ہر یک نادان غبی بلید ایسا کر سکتا ہے اور اگر کر سکتا ہے تو کیا وجہ کہ باوجود اتنی مدّت مدید گزرنے کے پیر مہر علی شاہ صاحب کتاب اعجاز المسیح کی مثل بنانے پر قادر نہ ہو سکے اور نہایت کار کام یہ کیا کہ دو سو صفحہ کی کتاب میں سے کہ جو چار ہزار سطر اور ساڑھے باراں جُز ہے ایسے دو چار فقرے پیش کر دئے کہ وہ * بعض امثلہ مشہورہ سے یا مقامات وغیرہ کے بعض فقرات سے توارد رکھتے ہیں یا مشابہ ہیں بھلا بتلاؤ کہ اِس میں اُنہوں نے اپنا کمال کیا دِکھلا یا۔ ایک منصف انسان سمجھ سکتا ہے کہ جس شخص نے اِتنی مدت تک موقعہ پا کر اپنے گوشۂخلوت میں دوچار ورق تک بھی اعجاز المسیح کا نمونہ پیش نہیں کیا تو وہ لاہور کے مقابلہ پر اگر اتفاق ہوتا کیا لِکھ سکتا تھا۔ وہ پیر فرتوت