ہو ؔ سکتی ہے کہ صرف مُنہ سے یہ کہہ دیں کہ یہ کتاب غلط ہے یا فلاں کتاب سے بعض فقرے اس کے چُرائے گئے ہیں۔ بھلا اس سے اپنا کمال کیا ثابت ہوا اور اگر کمال ثابت نہیں تو کیونکر قبول کیا جائے کہ نکتہ چینی صحیح ہو گی۔ بلکہ جو شخص ایسے لائق اور کامل انسانوں پر اعتراض کرتا ہے کہ جو لوگ اپنے کمال کا کچھ نمونہ دکھا دیتے ہیں اُس سے زیادہ کوئی دیوانہ اور پاگل نہیں ہوتا۔ اگر انسان ایسا سُلطان القلم ہوجائے کہ امور علمیہ اور حکمیہ کو انواع اقسام کی رنگین عبارتوں اور بلیغ فصیح استعارات میں ادا کر سکے اوراُس کو موہبت الٰہیّہ سے نظم اور نثر میں ایک ملکہ ہو جائے اور تکلّف اور عجز باقی نہ رہے تو پھر ایسے کمال تام کی حالت میں اگر اُس کی عبارتوں میں مناسب مقاموں اور محلوں میں بعض آیات قرآنی آجاویں یا متقدمین کے بعض امثال یا فقرات آ جاویں تو جائے اعتراض نہ ہو گا کیونکہ اس کی طلاقت لسانی کا کمال ایک ثابت شدہ امر ہے جو دریا کی طرح بہتا اور ہوا کی طرح چلتا ہے۔ وہ *** کیڑا ہے نہ آدمی جو خود بے ہنر ہو کر ایسے شخص کی بلاغت اور فصاحت پراعتراض کرے جس نے بہت سی عربی کتابیں تالیف کرکے بلیغ فصیح عبارت کامعجزہ ثابت کر دکھایا اور ظاہر کر دیا کہ اس کو بلیغ عبارت کی آمد کا معجزہ بحرِ ذخار کی طرح دیا گیا ہے۔ اس قسم کے خبیث طبع ہمیشہ ہوتے رہے ہیں جو خدا کی کلام پر بھی اعتراض کرتے ہوئے نہیں ڈرے اور باوجود تہی مغز ہونے کے نکتہ چینی سے باز نہ آئے۔ مثلاً جن خبیث لوگوں نے اعتراض کیا کہ قرآن شریف کی سُورۃ ۱کے بعض فقرات دیوان امرء القیس کے ایک قصیدہ کا اقتباس ہے یعنی وہ فقرات اس سے لئے گئے ہیں ان کو یہ خیال آنا چاہئیے تھا کہ قرآن شریف کے وہ تمام قصے پہلی کتابوں کے جو نہایت رنگین عبارت میں بیان کئے گئے ہیں اور وہ الٰہیات کے معارف حقائق جو اس میں معجزانہ عبارت میں بیان کئے گئے ہیں وہ عرب کے کس شاعر کی کلام کا اقتباس ہے۔ پس ایسے شخص اندھے ہیں نہ سُوجا کھے جو اس کمال کو نہیں دیکھتے جو ایک دریا کی طرح بہتا ہے اور ایک دوفقرہ میں توارد پا کر بدظنی پَیدا کرتے ہیں یہ لوگ اسی مادّہ کے آدمی ہیں جیسا کہ وہ شخص تھا جس کے مُنہ سے ۲ نکلاتھا اور اتفاقاً وہی آیت نازل ہو گئی تب وہ مُرتد ہو گیا کہ میرا ہی فقرہ قرآن میں داخل کیا گیا۔ اب پِیر مہرعلی شاہ صاحب کی کرتُوت کو دیکھنا چاہئیے کہ خود