جو ؔ اس قدر سہارے کے ساتھ بھی اُٹھ نہ سکا وہ بے سہارے کیونکر اٹھ سکتا یقیناًسمجھو کہ پیر مہر علی شاہ صاحب محض جھوٹ کے سہارے سے اپنی کوڑ مغزی پر پردہ ڈال رہے ہیں اور وہ نہ صرف دروغگو ہیں بلکہ سخت دروغگو ہیں اُن کا یہ آخری جُھوٹ بھی ہمیں کبھی نہ بُھولے گا جِس پر انہوں نے دوبارہ اس کتاب میں بھی اصرار کیا کہ مَیں لاہور میں وعدہ کے موافق آیا مگر تم قادیان سے باہر نہ نکلے لیکن جن لوگوں نے اُن کا اشتہار دیکھا ہو گا وہ اگر چاہیں تو گواہی دے سکتے ہیں کہ انہوں نے کمال رو بہ بازی سے مقابلہ سے گریز اختیار کی تھی کیا یہ دیانت کا طریق تھا کہ پیر مہرعلی صاحب نے اپنے اشتہار میں لکھا کہ مَیں بالمقابل تفسیر عربی فصیح میں لکھنے کے لئے لاہور میں پہنچ گیا ہوں مگر میری طرف سے یہ شرط ہے کہ اوّل اختلافی عقائد میں زبانی گفتگو ہو اور مولوی محمد حسین منصف ہوں۔ پھر اگر منصف مذکور یہ بات کہہ دے کہ عقائد پیر مہر علی شاہ کے درست اور صحیح ہیں اور انہوں نے اپنے عقائد کا خوب ثبوت دے دیا ہے تو فریق مخالف یعنی مجھ پر لازم ہو گا کہ بلاتوقف پیر مہر علی شاہ سے بیعت کروں پھر بعد اس کے تفسیر نویسی کا بھی مقابلہ ہو جائے گا۔ اب دیکھو یہ کس قدر مکّاری ہے جبکہ مولوی محمد حسین ا ور پِیر مہر علی شاہ صاحب نزول مسیح اور صعود مسیح کے عقیدہ میں اتفاق رکھتے ہیں تو پھر کیونکر ممکن تھا کہ مولوی محمد حسین کے مُنہ سے یہ نکلتا کہ مہر علی کے عقائد صحیح نہیں ہیں یا اُس کے دلائل باطل ہیں جبکہ دونوں کے عقائد ایک ہیں تو پھر وہ پیر مہر علی کی تکذیب کیونکر کر سکتا تھا۔ ہاں بلاغت فصاحت کے امور میں جس کو اہل اسلام وغیراہل اسلام جانچ سکتے ہیں کسی دشمن سے بھی دلیری نہیں ہو سکتی کہ ایسے فریق کو اعلیٰ درجہ کا سارٹیفکیٹ عطا کرے جس کی عبارت گندی اور بودی اور اغلاط نحوی صرفی سے بھری ہوئی ہو۔ سو کتاب اعجاز المسیح کی اشاعت سے پِیر مہر علی صاحب کو دوبارہ موقعہ دیا گیا تھا کہ وہ اگر ممکن ہو تو اب بھی اپنی علمی لیاقت سے میری اس شان کو کالعدم کر دیں جس سے صدہا آدمی سلسلہ بیعت میں داخل ہو رہے ہیں۔ مگر وہ بالکل اُس گنگے کی طرح رہ گئے جس پر اشارہ سے بات