توریت کے فلسفہ کی ایک جڑھ مانی گئی ہے ایک اور کتاب میں سے چرائی گئی ہے جو موسیٰ کے وقت میں موجوؔ د تھی تو گویا ان لوگوں کے خیال میں موسیٰ اور عیسیٰ سب چور ہی تھے۔ یہ توانبیاء علیہم السّلام پر شک کئے گئے ہیں مگر دوسرے ادیبوں اور شاعروں پر نہایت قابلِ شرم الزام لگائے گئے ہیں۔ متنبّی جو ایک مشہور شاعر ہے اس کے دیوان کے ہر ایک شعر کی نسبت ایک شخص نے ثابت کیا ہے کہ وہ دوسرے شاعروں کے شعروں کا سرقہ ہے۔ غرض سرقہ کے الزام سے کوئی بچا نہیں نہ خدا کی کتابیں اور نہ انسانوں کی کتابیں۔ اب تنقیح طلب یہ امر ہے کہ کیا درحقیقت ان لوگوں کے الزامات صحیح ہیں؟اس کا جواب یہی ہے کہ خدا کے ملہموں اور وحی یا بوں کی نسبت ایسے شبہات دِل میں لانا تو بدیہی طور پر بے ایمانی ہے اور لعنتیوں کا کام۔ کیونکہ خدائے تعالیٰ کے لئے کوئی عار کی جگہ نہیں کہ بعض کتابوں کی بعض عبارتیں یا بعض فقرات اپنے ملہموں کے دِل پر نازل کرے بلکہ ہمیشہ سے سنت اﷲ اسی پر جاری ہے۔ رہی یہ بات کہ دوسرے شاعروں اور ادیبوں کی کتابوں پر بھی یہی اعتراض آتا ہے کہ بعض کی عبارتیں یا اشعار بلفظہا یا بتغیّرما بعض کی تحریرات میں پائے جاتے ہیں تو اس کا جواب جو ایک کامل تجربہ کی روشنی سے ملتا ہے یہی ہے کہ ایسی صورتوں کو بجُز توارد کے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ جن لوگوں نے ہزارہا جزیں اپنی بلیغ عبارت کی پیش کردیں ان کی نسبت یہ ظلم ہو گا کہ اگر پانچ سات یا دس بیس فقرات اُن کی کتابوں میں ایسے پائے جائیں کہ وہ یا اُن کے مشابہ کسی دُوسری کتاب میں بھی ملتے ہیں تو اُن کی ثابت شدہ لیاقتوں سے انکار کر دیا جائے اِسی طرح اُن لوگوں کو انصاف سے دیکھنا چاہئیے کہ اب تک ہماری طرف سے بائیس ۲۲ کتابیں عربی فصیح بلیغ میں بطلب مقابلہ تصنیف و شائع ہو چکی ہیں اورعربی کے اشتہارات اِس کے علاوہ ہیں اور کتابوں کے نام یہ ہیں۔ تبلیغ۔ نور الحق حصّہ اوّل ۔ نورالحق حصہ ثانی۔ اتمام الحجہ۔ خطبہ الہامیہ۔ الہدٰی، اعجاز ا لمسیح۔ کرامات الصادقین۔ سر الخلافہ۔ انجامِ آتھم، نجم الہدٰی ، منن الرحمن، حمامۃ ا لبشریٰ، تحفہ بغداد ، البلاغ ، ترغیب المومنین۔ لجّۃ النور *