عبارتیں طالمود کی پیش کی ہیں جو بجنسہٖ بغیر کسی تغیر تبدّل کے انجیل میں موجود ہیں اور یہ عبارتیں صرف ایک ؔ دو فقرے نہیں ہیں بلکہ ایک بڑا حصہ انجیل کا ہے اور وہی فقرات اور وہی عبارتیں ہیں جو انجیل میں موجود ہیں اور اس کثرت سے وہ عبارتیں ہیں جن کے دیکھنے سے ایک محتاط آدمی بھی شک میں پڑے گا کہ یہ کیا معاملہ ہے اور دِل میں ضرورکہے گا کہ کہاں تک اس کو توارد پر حمل کرتا جاؤں اور اس یہودی فاضل نے اِسی پر بس نہیں کی بلکہ باقی حصّہ انجیل کی نسبت اُس نے ثابت کیا ہے کہ یہ عبارتیں دوسرے نبیوں کی کتابوں میں سے لی گئی ہیں اور بعینہٖ وہ عبارتیں بائبل میں سے نکال کرپیش کی ہیں اور ثابت کیا ہے کہ انجیل سب کی سب مسروقہ ہے اور یہ شخص خدا کا نبی نہیں ہے بلکہ اِدھر اُدھر سے فقرے چُرا کر ایک کتاب بنالی اور اس کا نام انجیل رکھ لیا۔ اور اس فاضل یہودی کی طرف سے یہ اس قدر سخت حملہ کیا گیا ہے کہ اب تک کوئی پادری اِس کا جواب نہیں دے سکا۔ یہ کتاب ہمارے پاس موجود ہے جو ابھی ملی ہے۔ اَبْ چونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ حضرت مسیح نے ایک یہودی اُستاد سے سبقًاسبقًا توریت پڑھی تھی اور طالمود کو بھی پڑھا تھا اِس لئے ایک شکی مزاج کے انسان کو اِس شبہ سے نکلنا مشکل ہے کہ کیوں اِس قدر عبارتیں پہلی کتابوں کی انجیل میں بلفظہا داخل ہو گئیں اورنہ صرف وہی عبارتیں جو خدا کی کلام میں تھیں بلکہ وہ عبارتیں بھی جو انسانوں کے کلام میں تھیں مگر اس سنت اﷲ پر نظر کرنے سے جس کو ابھی ہم لکھ چکے ہیں یہ شبہ ہیچ ہے کیونکہ خدا تعالیٰ بباعث اپنی مالکیّت کے اختیار رکھتا ہے کہ دُوسری کتابوں کی بعض عبارتیں اپنی جدید وحی میں داخل کرے اس پر کوئی اعتراض نہیں چنانچہ براہین احمدیہ کے دیکھنے سے ہر ایک پر ظاہر ہو گا کہ اکثر قرآنی آیتیں اور بعض انجیل کی آیتیں اور بعض اشعار کسی غیرملہم کے اس وحی میں داخل کئے گئے ہیں جو زبردست پیشگوئیوں سے بھری ہوئی ہے جس کے منجانب اﷲ ہونے پر یہ قوی شہادت ہے کہ تمام پیشگوئیاں اُس کی آج پوری ہو گئیں اور پوری ہو رہی ہیں۔ غرض خدائے تعالیٰ کی یہ قدیم سے عادت ہے کہ وہ اپنی وحی کی عبارتوں اور مضمونوں کو دوسرے مقام سے بھی لے لیتا ہے اور پھرجاہلوں کو اعتراض پیدا ہوتے ہیں چنانچہ ان دنوں میں ایک اور شخص نے تالیف کی ہے جس سے وہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ توریت کی کتاب پیدائش جو گویا