اس قدر تصانیف عربیہ جومضامین دقیقہ علمیہ حکمیہ پر مشتمل ہیں بغیر ایک کامل علمی وسعت کے کیونکر انسان ان کو انجام دے سکتا ہے۔ کیاؔ یہ تمام علمی کتابیں حریری یا ہمدانی کے سرقہ سے طیار ہو گئیں اور ہزارہا معارف اور حقائق دینی و قرآنی جو اِن کتابوں میں لکھے گئے ہیں وہ حریری اور ہمدا نی میں کہاں ہیں۔ اس قدر بے شرمی سے مُنہ کھولنا کیا انسانیت ہے۔ یہ لوگ اگر کچھ شرم رکھتے ہوں تو اس شرمندگی سے جیتے ہی مر جائیں کہ جس شخص کو جاہل اور علم عربی سے قطعًا بے خبر کہتے تھے اُس نے تو اِس قدر کتابیں فصیح بلیغ عربی میں تالیف کر دیں مگر خود اُن کی استعداد اور لیاقت کا یہ حال ہے کہ قریباً دس برس ہونے لگے برابر اُن سے مطالبہ ہو رہا ہے کہ ایک کتاب ہی بالمقابل اِن کتابوں کے تالیف کرکے دکھلائیں مگر کچھ نہیں کر سکے صرف مکّہ کے کفّار کی طرح یہی کہتے رہے کہ لَوْنَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ ھٰذَا کہ اگر ہم چاہیں تو اِس کی مانند کہہ دیں۔ لیکن جس حالت میں ان کو گالیاں دینے کے لئے تو خُوب فرصت ہے تو پھر کیا وجہ کہ ایک عربی رسالہ کی تالیف کے لئے فرصت نہیں ہے اور جس حالت میں ہزاروں اشتہار گالیوں کے چھاپ کر شائع کر رہے ہیں تو پھر کیا وجہ کہ عربی کتاب کے چھاپنے کے لئے اِن کے پاس کچھ نہیں ہے۔ مَیں خیال نہیں کر تاکہ کوئی عاقل ایسے عذرات اِن کے کو قبول کر سکے اور صرف چند فقرے بیس ہزار فقروں میں سے پیش کرکے یہ کہنا کہ یہ مسروقہ ہیں یہ اِس درجہ کی بے حیائی ہے جو بجُز پیر مہر علی شاہ کے کون ایسا کمال دِکھلا سکتا ہے۔ اے نادان! اگر علمی اور دینی کتابیں جو ہزارہا معارف اور حقائق پر مندرج ہوتی ہیں صرف فرضی افسانوں کی عبارتوں کے سرقہ سے تالیف ہو سکتی ہیں تو اِس وقت تک کس نے آپ لوگوں کا مُنہ بند کر رکھا ہے کیا ایسی کتابیں بازاروں میں ملتی نہیں ہیں جن سے سرقہ کر سکو۔ اُن لعنتوں کو کیوں آپ لوگوں نے ہضم کیا جو در حالت سکوت ہماری طرف سے آپ کے نذر ہوئیں اور کیوں ایک سورۃ کی بھی تفسیر عربی بلیغ فصیح میں تالیف کرکے شائع نہ کر سکے تا دنیا دیکھتی کہ کس قدر آپ عربی دان ہیں۔ اگر آپ کی نیّت بخیر ہوتی تو میرے مقابل تفسیر لکھنے کے لئے ایک مجلس میں بیٹھ جاتے تا دروغ گو بے حیا کا مُنہ ایک ہی ساعت میں سیاہ ہو جاتا۔ خیر تمام دنیا اندھی نہیں ہے آخر سوچنے والے بھی موجود ہیں۔ ہم نے کئی مرتبہ یہ بھی اشتہار دیا کہ تم ہمارے مقابلہ پر کوئی عربی رسالہ لکھو پھر عربی زبان جاننے والے اُس کے منصف