اور معارف قرآنیہ کیونکر حاصل ہو سکیں اور لغت عرب جو صرف نحو کی اصل کنجی ہے وہ ایک ایسا ناپیدا کنار دریاؔ ہے جو اس کی نسبت امام شافعی رحمۃ اﷲ کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے کہ لایعلمہ الا نبیّ یعنی اس زبان کو اوراس کے انواع اقسام کے محاورات کو بجُز نبی کے اور کوئی شخص کامل طور پر معلوم ہی نہیں کرسکتا۔ اس قول سے بھی ثابت ہوا کہ اس زبان پر ہر یک پہلو سے قدرت حاصل کرنا ہر ایک کا کام نہیں بلکہ اس پر پُورا احاطہ کرنا معجزات انبیاء علیہم السلام سے ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ یہ نکتہ چینی مذکورہ بالا ایک مُلْھمکے مقابل پر کہ جو عربی نویسی میں بہت سے فقرے خدائے تعالیٰ کی طرف سے بطور الہام کے پاتا ہے بالکل بے محل ہے کیونکہ اگر خدائے تعالیٰ اپنے بندوں کو اس طر ح پر بھی مدد دے کہ کبھی ایک مسلسل تقریر میں کسی کتاب کا کوئی عمدہ فقرہ بطور وحی اُس کے دل پر القا کر دے تو ایسا القاء اس عبارت کو اعجازی طاقت سے باہر نہیں کر سکتا۔ باہر تب ہو کہ جب دُوسرا شخص اس کی مثل پر قادر ہو سکے مگر اب تک کون قادر ہوا؟اورکس نے مقابلہ کیا۔ اورخود اُدباء کے نزدیک اس قدر قلیل توارد نہ جائے اعتراض ہے اور نہ جائے شک ۔ بلکہ مستحسن ہے کیونکہ طریق اقتباس بھی ادبیہ طاقت میں شمار کیا گیا ہے اور ایک جُز بلاغت کی سمجھی گئی ہے۔ جو لوگ اس فن کے رجال ہیں وہی اقتباس پر بھی قدرت رکھتے ہیں ہر یک جاہل اور غبی کا یہ کام نہیں ہے۔ ماسوا اس کے ہمارا تو یہ دعویٰ ہے کہ معجزہ کے طور پر خدا تعالیٰ کی تائید سے اس انشاء پردازی کی ہمیں طاقت ملی ہے تا معارف حقائق قرآنی کو اس پیرایہ میں بھی دنیا پر ظاہر کریں۔ اور وہ بلاغت جو ایک بیہودہ اور لغو طو رپر اسلام میں رائج ہو گئی تھی اس کو کلام الٰہی کا خادم بنایا جائے اور جبکہ ایسا دعویٰ ہے تو محض انکار سے کیا ہو سکتا ہے جب تک کہ اس کی مثل پیش نہ کریں یوں تو بعض شریر اور بدذات انسانوں نے قرآن شریف پر بھی یہ الزام لگایا ہے کہ اس کے مضامین توریت اور انجیل میں سے مسروقہ ہیں اور اس کی امثلہ قدیم عرب کی امثلہ ہیں جو بالفاظہا سرقہ کے طو رپر قرآن شریف میں داخل کی گئی ہیں۔ ایسا ہی یہودی بھی کہتے ہیں کہ انجیل کی عبارتیں طالمود میں سے لفظ بلفظ چُرائی گئی ہیں۔ چنانچہ ایک یہودی نے حال میں ایک کتاب بنائی ہے جو اس وقت میرے پاس موجود ہے اور بہت سی