معجزہ عربی بلیغ کی تفسیر نویسی میں بالمقابل بلاتا ہوں ورنہ انسان کیا چیزاور ابن آدم کیا حقیقت کہ غرور اورؔ تکبر کی راہ سے ایک دنیا کو اپنے مقابل پر بُلاوے یہ عجیب بات ہے کہ بعض اوقات بعض فقروں میں خداتعالیٰ کی وحی انسانوں کی بنائی ہوئی صرفی نحوی قواعد کی بظاہر اتباع نہیں کرتی مگر ادنیٰ توجہ سے تطبیق ہوسکتی ہے اسی وجہ سے بعض نادانوں نے قرآن شریف پر بھی اپنی مصنوعی نحو کو پیش نظر رکھ کر اعتراض کئے ہیں مگر یہ تمام اعتراض بیہودہ ہیں۔ زبان کا علم وسیع خدا کو ہے نہ کسی اور کو ۔ اور زبان جیسا کہ تغیر مکانی سے کسی قدر بدلتی ہے ایسا ہی تغیر زمانی سے بھی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ آج کل کی عربی زبان کا اگر محاورہ دیکھاجائے جو مصر اور مکّہ اور مدینہ اور دیارِ شام وغیرہ میں بولی جاتی ہے تو گویا وہ محاورہ صَرف و نحو کے تمام قواعد کی بیخ کنی کر رہاہے اور ممکن ہے کہ اسی قسم کا محاورہ کسی زمانہ میں پہلے بھی گذر چکا ہو۔ پس خدا تعالیٰ کی وحی کو اس بات سے کوئی روک نہیں ہے کہ بعض فقرات سے گذشتہ محاورہ یا موجودہ محاورہ کے موافق بیان کرے اِسی وجہ سے قرآن میں بعض خصوصیات ہیں۔ علاوہ اس کے اس ملک میں صرفی نحوی قواعد سے بھی لوگوں کو اچھی طرح واقفیت نہیں اصل بات یہ ہے کہ جب تک زبان عرب میں پورا پورا توغل نہ ہو اور جاہلیت کے تمام اشعار نظر سے نہ گذر جائیں اور کتب قدیمہ مبسوطہ لغت جو محاورات عرب پر مشتمل ہیں غور سے نہ پڑھے جائیں اور وسعت علمی کا دائرہ کمال تک نہ پہنچ جائے تب تک عربی محاورات کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا اور نہ اُن کی صرف اور نحو کا باستیفاء علم ہو سکتا ہے۔ ایک نادان نکتہ چینی کرتا ہے کہ فلاں صلہ درست نہیں یا ترکیب غلط ہے اور اسی قسم کا صلہ اور اسی قسم کی ترکیب اور اسی قسم کا صیغہ قدیم جاہلیت کے کسی شعرمیں نکل آتا ہے اور اس مُلک میں جو لوگ علماء کہلاتے ہیں بڑی دوڑاُن کی قاموس تک ہے حالانکہ قاموس کی تحقیق پر بہت جرح ہوئی ہیں اور کئی مقامات میں اُس نے دھوکہ کھایا ہے۔ یہ بیچارے جو علماء یا مولوی کہلاتے ہیں ان کو تو قدیم معتبر کتابوں کے نام بھی یاد نہیں اور نہ اُن کو تحقیق اور توغل زبان عربی سے کچھ دلچسپی ہے۔ مشکوٰۃ یا ہدایہ پڑھ لیا تو مولوی کہلائے اور پھر دِہ بدِہ پیٹ کے لئے وعظ کرنا شروع کر دیا۔ اگر وعظ سے کوئی عورت دام میں پھنس گئی تو اُس سے نکاح کر لیا۔ یا کسی گدّی پر بیٹھ کر تعویذ گنڈوں سے اپنا معاش چلایا۔ پس اغراض نفسانیہ کے ساتھ زبان پر کیونکر احاطہ ہو سکے