زید ہی اچھا رہا جس کا نام قرآن شریف میں موجود ہے ان کو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا بیٹا کہنا قرآن شریف کے نصّ صریح کے برخلاف ہے جیسا کہ آیۃ ۱؂ سے سمجھا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ حضرت امام حسین رجال میں سے تھے عورتوں میں سے تو نہیں تھے حق تو یہ ہے کہ اس آیت نے اس تعلق کو جو امام ؔ حسین کو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے بوجہ پسر دختر ہونے کے تھا نہایت ہی ناچیز کر دیا ہے تو پھر اس قدر اُن کو آسمان پر چڑھانا کہ وہ جناب پیغمبر خدا صلی اﷲ علیہ وسلم سے بھی افضل ہیں۔ یہ قرآن شریف پر بھی تقدم ہے ہر ایک کو فضیلت وہ دینی چاہیئے کہ قرآن سے ثابت ہے قرآن تو ان کی ابنیت کی بھی نفی کرتا ہے مگر یہاں حضرات شیعہ تمام انبیاء کا انہیں کو شفیع ٹھہراتے ہیں یہ کیسی فضولی ہے یہ قول کس قدر حیا سے دُور ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام امام حسین کے ہی طفیلی ہیں اگر وہ نہ ہوتے تو تمام نبیوں کا نجات پانا مشکل بلکہ غیر ممکن تھا۔ ہائے افسوس کہاں ہے اسلام ان لوگوں کا جو عیسائیوں کی طرح حسین کی خاطر اس رسول پر بھی زبان دراز کر رہے ہیں جو اورؔ ضال لکھنا اور جس قدر الفاظ ناشائستہ لغت کی کتابوں میں درج ہیں اپنی تحریر کو ا ن سے مزیّن کرنا اور علم اور شرافت کو بٹا لگانا ہے۔ علماء ربّانی کا کام یہ ہے کہ دلیل اور بُرہان سے اپنے عندیات کو قوت دیں۔ پھر انصاف پسند طبائع پر اُن کی معقولیت ظاہر کریں۔ ناظرین حق اور باطل میں خود تمیز رکھیں گے۔ اب میں جناب مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کرتا ہوں۔ جناب من آپ کا مخاطب ایک مدعی امامت ہے اگرچہ آپ اُس کو کاذب اور مفتری جانتے ہیں۔ پس اُس کے مسلّمات سے اُسے ساکت کرنا لازم ہے۔ تفسیر برغانی اور طبرانی ابو نعیم وغیرہ کا حوالہ دینا یا اُن کی روایات غیر مصححہ پیش کرنا ایک مدعی امامت کے بالمقابل جس کا دعویٰ ہو کہ مَیں حَکم ہو کر قرآن مجید اور رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی عظمت قائم کرنے کے لئے دنیا میں آیا ہوں اپنے اوپر جہالت کا الزام قائم کرنے سے زیادہ نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا۔ وہ نہ حنفی ہے نہ شافعی نہ مالکی نہ حنبلی اور نہ جعفری نہ مقلّد نہ اہل حدیث۔ پھر آپ حنفیوں یا شافعیوں یا مالکیوں وغیرہ کے علماء یا مفسّرین کے اقوال پیش کرکے اس کو ملزم کیونکر کر سکتے ہیں۔ اگر وہ ان اقوال کا پابند ہو تو منصب امامت درحقیقت اس کے لئے سزا وار نہیں ہے وہ دعویٰ کرتا ہے کہ مَیں اس وقت کا حَکم ہوں برغانی ہو یا طبرانی اُن میں مفسروں کے اپنے عندیات