تمام انبیاء سے افضل ہے۔ کیا تعجب نہیں کہ قرآن ابوبکر کی تعریف کرے اور اس کی خلافت کی صریح لفظوں میں بشارؔ ت دے مگر حسین جو تمام انبیاء کا شفیع ہے اس کا سارے قرآن میں ذکر ندارد۔ پھر عجیب تر یہ بات ہے کہ حسین کو یہ شرف بھی نصیب نہیں ہوا کہ وہ موت کے بعد آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی قبر کے قریب دفن کیا جاتا مگر ابوبکر و عمر جن کو حضرات شیعہ کافر کہتے ہیں بلکہ تمام کافروں سے بدتر سمجھتے ہیں ان کو یہ مرتبہ ملا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے ایسے ملحق ہو کر دفن کئے گئے کہ گویا ایک ہی قبر ہے اگر وہ کافر تھے تو خدا نے ایسا کیوں کیا۔ کافر سے بدتر دنیا میں کوئی نہیں ہوتا۔ کیا کوئی شیعہ راضی ہو سکتا ہے کہ اُس کی پاکدامن ماں ایک زانیہ کنجری کے ساتھ دفن کر دی جائے اور کافرتو زناکار سے بدتر ہے پھر خدا نے کیوں ایسا کیا کوئی عقلمند اور خدا سے ڈرنے والا اس کا جواب دے۔ غرض حسین کو نبیوں پر فضیلت دینا بیہودہ خیال ہے ہاں یہ سچ ہے کہ وہ بھی خدا کا ذخیرہ ہو گا یا کچھ اَور۔ اگر آپ کہیں کہ تفسیر قرآن ہے تو ہم کہیں گے کہ پھر اس قدر مختلف الاقوال تفاسیر جن کی تعداد ہزار ہا سے بڑھ گئی کیوں شائع ہوئی ہیں اور ان میں اختلاف ہی کیوں واقع ہوا۔ اور حضرت مہدئ آخر الزمان کی نسبت کیا آپ کے مسلّمات میں درج نہیں کہ وہ اختلاف رفع کرنے کو آویں گے اور سب ادیان کو ایک دین بنا دیں گے۔ کیا جب امام مہدی تشریف لاویں گے بلاوعظ اور بلانصیحت اور بلاتغیر و تبدّل دین خودبخود ایک ہو جاوے گا آیا کچھ ترمیم و تنسیخ بھی کریں گے یا نہیں۔ کیا وہ ظاہر ہو کر مجتہدین کربلا کے فتوے پر چلیں گے یا مجتہدین نجف و ایران یا مجتہدین لکھنؤ و لاہور۔ فرماویں وہ کس مجتہد کے مقلّد ہوں گے اور کس کے فتوے پر عمل کریں گے نہیں مَیں بھول گیا وہ ضرور آپ کے فتوے پر چلیں گے۔ مگر افسوس کہ آپ یہ بھی نہ مانیں گے۔ پس جو امام ہوتا ہے وہ کسی کا مقلّد نہیں ہوتا بلکہ وہ خود حَکم ہوتا ہے اس کے بالمقابل تفسیر برغانی اور دلائل النبوّت کا حوالہ دینا کوئی عقلمند طبیعت اس کو جائز نہیں رکھ سکتی ہے۔ ہاں اس کے مسلّمات قرآن مجید اور سنّت صحیحہ ہیں۔ مَیں بہت خوش ہوتا کہ جب آپ نے سورہ انعام* کی آیت یاایّہا الذین آمنوا الخ۔ پیش کی تھی اس کی تفسیر میں قراٰن مجید ہی سے ثابت کیا ہوتا کہ لفظ وسیلہ سے جو آیۃ مرقومہ بالا میں ہے حسین اور اُس کے آباء کرام مراد ہیں اور اپنے دعوے کو مؤکد کرنے کے لئے بخاری یا مسلم کی کوئی حدیث پیش کی ہوتی جو مدعی امامت کی مسلمہ کتب سے ہیں یا ذرا غصّہ کو ٹال کر اپنی ہی تفسیروں * مولوی صاحب کی تحریر کے مطابق ہم نے سورۃ الانعام لکھا ہے ورنہ آیت مذکورہ سورۃ مائدہ میں ہے۔۱۲ منہ