کیڑے بن جائیں گے۔ دیکھو یہ دونوں پہلو جو قرآن شریف میں سے نکلتے ہیں حدیث سے ثابت ہوئے۔ بعض نادان شیعہ نے جنہوں نے حسین کی پرستش کو اسلام کا مغز سمجھ لیا ہے ہمارے رسالہ دافع البلاء کے دیکھنے سے بہت زہر اگلا ہے اور گالیاں دے کر یہ اعتراض کیا ہے کہ کیونکر ممکن ہے کہ یہ شخص امام حسین سے افضل ہو اور جوش میں آ کر یہ بھی لکھ دیا ہے کہ امام حسین کی وہ شان ہے کہؔ تمام نبی اپنی مصیبتوں کے وقت میں اسی امام کو اپنا شفیع ٹھہراتے تھے اور اس کی طفیل اُن کی مصیبتیں دُور ہوتی تھیں ایسا ہی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم بھی مصیبت کے وقت میں امام حسین * کے ہی دستِ نگر تھے اور آپ کی مصیبتیں بھی امام حسین کی شفاعت سے ہی دُور ہوتی تھیں۔ افسوس یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ قرآن نے تو امام حسین کو رتبہ ابنیّت کا بھی نہیں دیا بلکہ نام تک مذکور نہیں اُن سے تو ہم اس حاشیہ میں ایک شیعہ صاحب کا اشتہار مطبوعہ مطبع شریفی پشاور درج کرتے ہیں جس سے معلوم ہو گا کہ علی حائری صاحب نے امام حسین کی نسبت جو خیال ظاہر کیا ہے وہ خود اُن کے ہم مذہب لوگوں کی رائے میں صحیح نہیں ہے اور اس سے ان کی غلطی کا اور کیا زیادہ ثبوت ہو گا کہ اُن کا ہم مذہب ہی مضبوط دلیلوں سے اپنے اشتہار مندرجہ ذیل میں اُن کے خیال کو ردّ کرتا ہے اور یہ ایک نصرت الٰہی ہے کہ عین اس رسالہ کی تحریر کے وقت ہمیں یہ اشتہار مل گیا ہے جو علی حائری صاحب کی تحریر کی حقیقت کھولنے کے لئے کافی ہے اور وہ یہ ہے :۔ بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم نحمدہٗ ونصلّی علٰی رسولہ الکریم آج یہ رسالہ وسیلۃ المبتلا میری نظر سے گذرا ہر چند میں نے اپنے تئیں ضبط کیا اور دل کو سمجھایا کہ ایسے معاملات میں کیوں دخل دیتے ہو مگر دل قابو سے نکل گیا اور یہ خیال کیا کہ افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے علماء امامیہ کیسے بودے خیال کے ہیں وہ عقل خداداد سے کام نہیں لیتے۔ اپنے علم اور شرافت کا کوئی کرشمہ نہیں دکھلاتے۔ کیا ایک ایسے مدعی امامت کے مقابلہ میں اس قسم کے جوابات بے دلیل کفایت کرسکتے ہیں اور اس قسم کی روایات موضوعہ مسکت للخصم ہو سکتی ہیں۔ بخدا میں امامیہ ہو کر انصافاً کہتا ہوں کہ ہرگز یہ روایات اور استدلال من غیر کلام اﷲ ایک ایسے زبردست مدعی کے بالمقابل مکتفی نہیں ہو سکتے ۔ گالیاں نکالنا اور کسی کو نجس اور خبیث