شائع کئے اور یہ معنے بجائے خود صحیح اور درست ہیں۔ اب ایک اور معنے خدا تعالیٰ کی طرف سے اس آیت کے متعلق کھلے جن کو ابھی ہم نے بیان کر دیا ہے یعنی یہ کہ دابّۃ الارض سے مرادوہ کیڑا بھی ہے جو مقدر تھا جومسیح موعود کے وقت میں زمین میں سے نکلے اور دنیاکوان کی بداعمالیوں کی وجہ سے تباہ کرے۔ یہ خوب یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جیسے یہ آیت دو معنوں پر مشتمل ہے ایسے ہی صدہا نمونے اسی قسم کے کلام الٰہی میں پائے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے اُس کو معجزانہ کلام کہا جاتا ہے جو ایک ایک آیت دس ؔ ۱۰دس ۱۰ پہلو پرمشتمل ہوتی ہے اور وہ تمام پہلو صحیح ہوتے ہیں بلکہ قرآن شریف کے حروف اور اُن کے اعداد بھی معارف مخفیہ سے خالی نہیں ہوتے مثلاً سورۃ والعصرکی طرف دیکھو کہ ظاہری معنوں کی رُو سے یہ بتلاتی ہے کہ یہ دُنیوی زندگی جس کو انسان اس قدر غفلت سے گذار رہا ہے آخر یہی زندگی ابدی خُسراناور وبال کا موجب ہو جاتی ہے اور اس خُسرانسے وہی بچتے ہیں جو خدائے واحد پر سچے دِل سے ایمان لے آتے ہیں کہ وہ موجود ہے اور پھر ایمان کے بعد کوشش کرتے ہیں کہ اچھے اچھے عملوں سے اس کو راضی کریں اور پھر اسی پر کفایت نہیں کرتے بلکہ چاہتے ہیں کہ اس راہ میں ہمارے جیسے اور بھی ہوں جو سچائی کو زمین پر پھیلاویں اور خدا کے حقوق پر کاربند ہوں اور بنی نوع پر بھی رحم کریں۔ لیکن اس سورۃ کے ساتھ یہ ایک عجیب معجزہ ہے کہ اس میں آدم کے زمانہ سے لے کرآنحضرتؐ کے زمانہ تک دنیا کی تاریخ اَبْجَدْ کے حساب سے یعنی حساب جمل سے بتلائی گئی ہے۔ غرض قرآن شریف میں ہزارہا معارف و حقائق ہیں اور درحقیقت شمار سے باہر ہیں۔ اسی بناء پر قرآن شریف فرماتا ہے کہ آخری زمانہ میں دو قسم کے دابّۃ الارض پیدا ہو جائیں گے (۱) ایک تو علماء بے عملجن کے دل زمین کے ساتھ چسپاں ہوں گے زمین کی شہرت چاہیں گے۔ (۲) دوسرے طاعون کا کیڑا جو بطور سزا دہی ظاہر ہو گا۔ سو اس زمانہ میں دونوں باتیں ظہور میں آ گئیں اور دراصل حدیثوں میں اِن دونوں باتوں کی طرف اشارہ ہے صحیح مسلم کی ایک حدیث میں صاف لکھا ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں ملک میں طاعون پھوٹے گی اور شیعہ کی کتابوں کی حدیثوں میں بھی طاعون کا ذکر ہے اور پھر ساتھ اس کے یہ بھی ذکر ہے کہ اس وقت اکثر علماء یہودی صفت ہو جائیں گے یعنی محض زمین کے