کو رُوحانی سلسلہ سے ایک تعلق ہے سو تم نہ تو ظاہری طور پر زمین کے نجس حصوں کی طرف جھکو اور نہ رُوحانی طور پر بلکہ اگر ممکن ہو تو اوپر کے مکانوں میں رہو اور ہوادار اور روشن مکان اختیار کرو اور نہ تم باطنی طور پر زمین کی طرف جھکو بلکہ آسمان میں سے حصّہ لو۔ یہ جو اﷲ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا کہ ؔ وہ دابّۃ الارض یعنی طاعون کا کیڑا زمین میں سے نکلے گا اس میں یہی بھید ہے کہ تا وہ اس بات کی طرف اشارہ کرے کہ وہ اُس وقت نکلے گا کہ جب مسلمان اور ان کے علماء زمین کی طرف جھک کر خود دابّۃ الارض بن جائیں گے۔ ہم اپنی بعض کتابوں میں یہ لکھ آئے ہیں کہ اس زمانہ کے ایسے مولوی اور سجادہ نشین جو متقی نہیں ہیں اور زمین کی طرف جھکے ہوئے ہیں یہ دابّۃ الارض ہیں اوراب ہم نے اِس رسالہ میں یہ لکھا ہے کہ دابّۃ الارض طاعون کا کیڑا ہے۔ ان دونوں بیانوں میں کوئی شخص تناقض نہ سمجھے۔ قرآن شریف ذوالمعارف ہے اور کئی وجوہ سے اس کے معنی ہوتے ہیں * جو ایک دوسرے کی ضد نہیں اور جس طرح قرآن شریف یک دفعہ نہیں اُترا اسی طرح اس کے معارف بھی دِلوں پر یکدفعہ نہیں اُترتے۔ اسی بنا پر محققین کا یہی مذہب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معارفبھی یکدفعہ آپ کو نہیں ملے بلکہ تدریجی طور پر آپ نے علمی ترقیات کا دائرہ پُوراکیا ہے۔ ایسا ہی مَیں ہوں جو بروزی طور پر آپ کی ذات کامظہر ہوں۔ آنحضرت کی تدریجی ترقی میں سِرّ یہ تھا کہ آپ کی ترقی کا ذریعہ محض قرآن تھا پس جبکہ قرآن شریف کا نزول تدریجی تھا اسی طرح آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی تکمیل معارف بھی تدریجی تھی اور اسی قدم پر مسیح موعود ہے جو اِس وقت تم میں ظاہر ہوا۔ علم غیب خدا تعالیٰ کا خاصہ ہے جس قدر وہ دیتا ہے اُسی قدر ہم لیتے ہیں۔ پہلے اُسی نے غیب سے مجھے یہ فہم عطا کیا کہ ایسے سُست زندگی والے جو خدااوراُس کے رسول پر ایمان تو لاتے ہیں مگر عملی حالت میں بہت کمزور ہیں یہ لوگ دابّۃ الارض ہیں یعنی زمین کے کیڑے ہیں آسمان سے ان کو کچھ حصہ نہیں۔ اور مقدر تھا کہ آخری زمانہ میں یہ لوگ بہت ہو جائیں گے اور اپنے ہونٹوں سے اسلام کی شہادت دیں گے مگر ان کے دل تاریکی میں ہوں گے۔ یہ تو وہ معنی ہیں جو پہلے ہم نے
* جس طرح اﷲ تعالیٰ نے نباتات وغیرہ میں کئی قسم کے خواص رکھے ہیں مثلاًایک بُوٹی دماغ کو قوت دیتی ہے اور ساتھ ہی جگر کو بھی مفید ہے اِسی طرح قرآن شریف کی ہر ایک آیت مختلف قسم کے معارف پر دلالت کرتی ہے۔ منہ