یعنی طاعون پڑے گی* اور بعداس کے دُوسرے عذاب بھی نازل ہوں گے۔ اس لئے ضروری تھا کہ مسیح اسلامی کی تائید میں بھی یہ باتیں ظہور میں آتیں۔ اور بھی دلائل اس بات پر بہت ہیں کہ یہی دابّۃ الارضجس کا قرآن شریف میں ذکر ہے طاعون ہے اور بلاشبہ یہ زمینی بیماری ہے اور زمین میں سے ہی نکلتی ہے اس سے محفوظ رہنے کے لئے بعد اس کے جو ایک شخص اس جماعت میں داخل ہو اور تقویٰ اختیار کرے تکرار سورۃ فاتحہ کا حضور دل سے اور اس کے معنوں پر قائم ہونے سے بہت مؤثر ہے جو شخص طاعون کی ناگہانی آفات سے بچنا چاہتا ہے اس کے لئے اس سے بہتر اور کوئی ذریعہ نہیں جو خدائے قادر ذوالجلال پر سچا ایمان لائے اور اپنے تمام اعضا کو معاصی سے بچاوے اور دین کو اور دینی خدمات کو دنیا پر مقدم رکھ لے اور اس سلسلہ حقہ میں صدق اور اخلاص کے ساتھ داخل ہو جائے اور دلی جوش کے ساتھ دعا میں لگا رہے اور اپنی عورتوں کو جن کے شرّ کے بداثر میں وہ بھی شریک ہو سکتا ہے غافلانہ زندگی سے بچاوے اور کوشش کرے کہ اُ س کے گھر میں ذکر الٰہی ہو پھر اس کے ساتھ قرآن شریف کے جمیع احکام کا پابند ہو کر ظاہری پلیدیوں اور ناپاکیوں سے بھی اپنے گھر کو صاف رکھے جو شخص ظاہری پلیدیوں سے نفرت نہیں رکھتا اور ا س کا گھر اور اس کے گھر کا صحن ناپاک رہتے ہیں وہ اندرونی پاکیزگی میں بھی سُست ہو سکتا ہے سو تم کوشش کرو کہ تمہارے گھر کا کوئی بھی حصہ ناپاک نہ ہو اور نہ ناپاک پانی اور کیچڑ بدررؤں میں کھڑا رہے اور نہ کپڑے میلے کچیلے رہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے جو قرآن شریف میں آ چکا ہے۔ ایسے احکام جو خدا تعالیٰ کی کتاب میں آئے ہیں وہ اس لئے آئے ہیں تاتم سمجھو کہ جسمانی سلسلہ * ذکریا ۱۴ باب میں مذکور ہے کہ آخری زمانہ میں مسیح موعود کے عہد میں سخت طاعون پڑے گی۔ اس زمانہ میں تمام فرقے دنیا کے متفق ہوں گے کہ یروشلم کو تباہ کر دیں۔ تب انہی دنوں میں طاعو ن پھوٹے گی اور اُسی دن یوں ہو گا کہ جیتا پانی یروشلم سے جاری ہوگا یعنی خدا کا مسیح ظاہر ہو جائے گا۔ اور اس جگہ یروشلم سے مراد بیت المقدس نہیں ہے بلکہ وہ مقام ہے جس سے دین کے زندہ کرنے کے لئے الٰہی تعلیم کا چشمہ جوش مارے گا اور وہ قادیاں ہے جو خدا تعالیٰ کی نظر میں دارالامان ہے۔ خدا تعالیٰ نے جیسا کہ اس اُمت کے خاتم الخلفاء کا نام مسیح رکھا ایسا ہی اس کے خروج کی جگہ کا نام یروشلم رکھ دیا اور اُس کے مخالفوں کا نام یہود رکھ دیا۔ منہ