میں ظاہر ہوتی ہے اور جیسا کہ انسان کو ایسا ہی ہر ایک جانور کو یہ بیماری ہو سکتی ہے اِسی لئے کشفی عالم میں اس کی مختلف شکلیں نظر آئیں۔ اور اس بیان پر کہ دابّۃ الارض درحقیقت مادہ طاعون کا نام ہے جس سے طاعون پیدا ہوتی ہے مفصلہ ذیل قرائن اور دلائل ہیں۔ (۱) اوّل یہ کہ دابّۃ الارض کے ساتھ عذاب کا ذکر کیا ہے جیسا کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے ۱؂ یعنی جب اُن پر آسمانی نشانوں اور عقلی دلائل کے ساتھ حجت پوری ہو جائے گی تب دابّۃ الارض زمین میں سے نکالا جائے گا۔ اب ظاہر ہے کہ دابّۃ الارض عذاب کے موقعہ پر زمین سے نکالا جائے گا نہ یہ کہ یُوں ہی بیہودہ طور پر ظاہر ہو گا جس کا نہ کچھ نفع نہ نقصان۔ اور اگر کہو کہ طاعون تو ایک مرض ہے مگر دابّۃ الارض لغوی معنوں کے رُو سے ایک کیڑا ہونا چاہئیے جو زمین میں سے نکلے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حال کی تحقیقات سے یہی ثابت ہوا ہے کہ طاعون کو پیدا کرنے والا وہی ایک کیڑا ہے جو زمین میں سے نکلتاہے بلکہ ٹیکا لگانے کے لئے وہی کیڑے جمع کئے جاتے ہیں اور اُن کا عرق نکالا جاتا ہے اور خوردبین سے ثابت ہوتا ہے کہ اُن کی شکل یُوں ہے (۰۰) یعنی بہ شکل دو نقطہ۔ گویا آسمان پر بھی نشان کسوف خسوف دو کے رنگ میں ظاہر ہوا اور ایسا ہی زمین میں۔ (۲) دوسرا قرینہ یہ ہے کہ قرآن شریف کے بعض مقامات بعض کی تفسیر ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن شریف میں جہاں کہیں یہ مرکب لفظ آیا ہے ۔ اس سے مُراد کیڑا لیا گیا ہے مثلاً یہ آیت ۲؂ یعنی ہم نے سلیمان پر جب موت کا حکم جاری کیا تو جنّات کو کسی نے اُنؔ کے مرنے کا پتہ نہ دیا مگر ُ گھن کے کیڑے نے کہ جو سلیمان کے عصا کو کھاتا تھا۔ سورۃ السبا الجزو نمبر ۲۲۔ اب دیکھو اِس جگہ بھی ایک کیڑے کا نام دابّۃ الارض رکھا گیا بس اِس سے زیادہ دابّۃ الارض کے اصلی معنوں کی دریافت کے لئے اور کیا شہادتہو گی