ہے اور یہی وہ دابّۃ الارض ہے جس کی نسبت قرآن شریف میں وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں ہم اس کو نکالیں گے اور وہ لوگوں کو اس لئے کاٹے گا کہ وہ ہمارے نشانوں پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ جیساکہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔۔ ۱ اور جب مسیح موعود کے بھیجنے سے خدا کی حجت اُن پر پوری ہو جائے گی تو ہم زمین میں سے ایک جانور نکال کر کھڑا کریں گے وہ لوگوں کو کاٹے گا اور زخمی کرے گا اس لئے کہ لوگ خدا کے نشانوں پر ایمان نہیں لائے تھے۔ دیکھو سورۃ النمل الجزو نمبر ۲۰۔
اور پھر آگے فرمایا ہے ۲ ترجمہ ۔ اُس دن ہم ہر ایک اُمت میں سے اس گروہ کو جمع کریں گے جو ہمارے نشانوں کو جھٹلاتے تھے اور اُن کو ہم جُدا جُدا جماعتیں بنا دیں گے۔ یہاں تک کہ جب وہ عدالت میں حاضر کئے جائیں گے تو خدائے عزّو جلّ اُن کو کہے گا کہ کیا تم نے میرے نشانوں کی بغیر تحقیق کے تکذیب کی یہ تم نے کیا کیا اور ان پر بوجہ اُن کے ظالم ہونے کے حجت پُوری ہو جائے گی اور وہ بول نہ سکیں گے۔ سُورۃ النمل الجزو نمبر ۲۰۔
اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہی دابّۃ الارض جو ان آیات میں مذکور ہے جس کا مسیح موعود کے زمانہ میں ظاہر ہونا ابتدا سے مقرر ہے۔ یہی وہ مختلف صورتوں کا جانور ہے ؔ جو مجھے عالم کشف میں نظر آیا اور دل میں ڈالا گیا کہ یہ طاعون کا کیڑا ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کا نام دابّۃ الارض رکھا کیونکہ زمین کے کیڑوں میں سے ہی یہ بیماری پیدا ہوتی ہے اسی لئے پہلے چُوہوں پر اس کا اثر ہوتا ہے اور مختلف صُورتوں