کہ خود قرآن شریف نے اپنے دوسرے مقام میں دابّۃ الارضکے معنے کیڑا کیا ہے۔ سو قرآن کے برخلاف اس کے اور معنی کرنا یہی تحریف اور اِلحاد اور دَجل ہے۔ (۳) تیسرا قرینہ یہ ہے کہ آیت میں صریح معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے نشانوں کی تکذیب کے وقت میں کوئی امام الوقت موجود ہونا چاہئیے کیونکہ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْھِمْ کا فقرہ یہی چاہتا ہے کہ اتمام حجت کے بعد یہ عذاب ہو اور یہ تو متفق علیہ عقیدہ ہے کہ خروج دابّۃ الارض آخری زمانہ میں ہو گا جبکہ مسیح موعود ظاہر ہوگا تاکہ خدا کی حجت دنیا پر پُوری کرے۔ پس ایک منصف کو یہ بات جلد تر سمجھ آ سکتی ہے کہ جبکہ ایک شخص موجود ہے جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور آسمان اور زمین میں بہت سے نشان اس کے ظاہر ہو چکے ہیں تو اب بلاشبہدابّۃ الارض یہی طاعون ہے جس کا مسیح کے زمانہ میں ظاہر ہونا ضروری تھا اور چونکہ یاجوج ماجوج موجود ہے اور 3 ۱؂ کی پیشگوئی تمام دنیا میں پُوری ہو رہی ہے اور دجّالی فتنے بھی انتہا تک پہنچ گئے ہیں اور پیشگوئی یترکن القلاص فلا یُسْعٰی علیھا بھی بخوبی ظاہر ہو چکی ہے اور شراب اور زنا اور جھوٹ کی بھی کثرت ہو گئی ہے اور مسلمانوں میں یہودیت کی فطرت بھی جوش مار رہی ہے تو صرف ایک بات باقی تھی جو دابّۃ الارض زمین میں سے نکلے سو وہ بھی نکل آیا۔ اِس بات پر جھگڑنا جہالت ہے کہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فلاں جگہ پھٹے گی ا ور دابۃ الارض وہاں سے سر نکالے گا پھر تمام دنیا میں چکر مارے گا کیونکہ اکثر پیشگوئیوں پر استعارات کا رنگ غالب ہوتا ہے جب ایک بات کی حقیقت کھل جائے تو ایسے اوہام باطلہ کے ساتھ حقیقت کو چھوڑنا کمالؔ جہالت ہے اِسی عادت سے بدبخت یہودی قبول حق سے محروم رہ گئے۔ (۴) قرینہ چہارم دابّۃ الارض کے طاعون ہونے پر یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ میں ایک رنگ میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ کسی وقت بعض مسلمان بھی وہ یہودی بن جائیں گے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام