جماعت اور ضالین یعنی عیسائیوں کے زمانہ ترقی کی خبر ہے۔ سوکس قدر خوشی کی بات ہے کہ وہ باتیں آج پوری ہوئیں۔
بالآخر مَیں ایک اور رؤیا لکھتا ہوں جو طاعون کی نسبت مجھے ہوئی اور وہ یہ کہ مَیں نے ایک جانور دیکھا جس کا قد ہاتھی کے قد کے برابر تھا مگر مُنہ آدمی کے مُنہ سے ملتا تھا اور بعض اعضاء دوسرے جانوروں سے مشابہ تھے اور مَیں نے دیکھا کہ وہ یُوں ہی قدرت کے ہاتھ سے پیدا ہو گیا اور مَیں ایک ایسی جگہ پر بیٹھا ہوں جہاں چاروں طرف بَن ہیں جن میں بیل گدھے گھوڑے کتے سور بھیڑیے اونٹ وغیرہ ہر ایک قسم کے موجود ہیں اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ سب انسان ہیں جو بدعملوں سے اِن صورتوں میں ہیں۔ اور پھر مَیں نے دیکھا کہ وہ ہاتھی کی ضخامت کا جانور جو مختلف شکلوں کا مجموعہ ہے جو محض قدرت سے زمین میں سے پَیدا ہو گیا ہے وہ میرے پاس آ بیٹھا ہے اور قطب کی طرف اُس کا منہ ہے خاموش صورت ہے آنکھوں میں بہت حیا ہے اور بار بار چند منٹ کے بعد اُن بنوں میں سے کسی بَن کی طرف دوڑتا ہے اور جب بَن میں داخل ہوتا ہے تو اُس کے داخل ہونے کے ساتھ ہی شور قیامت اُٹھتا ہے اور ان جانوروں کو کھانا شروع کرتا ہے اور ہڈیوں کے چابنے کی آواز آتی ہے۔ تب وہ فراغت کرکے پھر میرے پاس آ بیٹھتا ہے اور شاید دس منٹ کے قریب بیٹھا رہتا ہے اور پھر دوسرے بَن کی طرف جاتا ہے اور وہی صورت پیش آتی ہے جو پہلے آئی تھی اور پھر میرے پاس آبیٹھتا ہے۔ آنکھیں اُس کی بہت لمبی ہیں اور مَیں اس کو ہر ایک دفعہ جو میرے پاس آتا ہے خوب نظر لگا کر دیکھتا ہوں اورؔ وہ اپنے چہرہ کے انداز ہ سے مجھے یہ بتلاتا ہے کہ میرا اِس میں کیا قصُور ہے مَیں مامور ہوں اور نہایت شریف اور پرہیز گار جانور معلوم ہوتا ہے اور کچھ اپنی طرف سے نہیں کرتا بلکہ وہی کرتا ہے جو اس کو حکم ہوتا ہے۔ تب میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہی طاعون