بدقسمت ہے اور خدا کا پختہ ارادہ ہے کہ اس کو ہلاک کر دے یہ کیسی موردِ غضب الٰہی ہے کہ ایک تو دجّال کے قبضہ میں دی گئی اور اب تک سچے مسیح اور مہدی کا نہ آسمان پر کچھ پتہ ملتا ہے نہ زمین پر۔ ہزار چیخیں بھی مارو وہ دونوں گمشدہ جواب بھی نہیں دیتے کہ زندہ ہیں یا مُردہ اور کدھر ہیں اور کہاں ہیں۔ نبیوں کے مقرر کردہ وقت بھی گذر گئے اور اُمّت کو عیسائی مذہب نے کھا لیا مگر نہ خدا کو رحم آیا اور نہ مہدی اور مسیح کے دِل نرم ہوئے۔ بعض نادان کہتے ہیں کہ بے شک قرآن سے مسیح ابن مریم کی وفات ثابت ہوتی ہے اور سورۃ نور اور سورۃ فاتحہ وغیرہ سورتوں پر نظر غائر کرکے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس اُمت کے کل خلفاء اِسی اُمّت میں سے ہوں گے اور ہم مانتے ہیں کہ صلیبی مذہب نے بھی بہت کچھ فتنہ پیدا کیا ہے اور یہ وہ مصیبت ہے کہ اسلام پر اس سے پہلے کبھی نہیں آئی۔ وقت اور زمانہ بے شک ایسے مصلح کو چاہتا ہے جو صلیبی طوفان کا مقابلہ کرے اور صدی کا سر بھی اسی کو چاہتا تھا اور صدی میں سے بھی قریباً پانچواں حصّہ گذر گیا۔ سب کچھ سچ لیکن ہم کیونکر مان لیں کیونکہ اِس شخص کے عقائد ہمارے علماء کے عقائد سے مختلف ہیں اگر یہ اُن کا ہمزبان ہوتا تو ہم قبول کر سکتے۔ اب دیکھو کہ یہ خیالات اُن کے کس قدر دیوانگی کے ہیں۔ جب آپ ہی قائل ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم کی حیات اور نزول میں علماء غلطی پر ہیں تو پھر خدا کا مُرسل کیونکر اس غلطی کو مان لے ماسوا اس کے جبکہ مسیح موعود کا نام حَکمہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اسلام کے بہتر ۷۲ فرقوں میں فیصلہ کر ے اور بعض خیالات ردّ کرے اور بعض کی تصدیق کرے۔ یہ کیونکر ہو سکے کہ جو حَکم کہلاتا ہے وہ تمہارا سب رطب یابس کا ذخیرہ مان لے اورؔ پھر اس کے وجود سے فائدہ کیا ہوا اور کس وجہ سے اس کا نام حَکمرکھا گیا۔ اس لئے ضروری تھا کہ وہ رطب یابس کے ذخیرہ میں سے بعض ردّ کرے اور بعض قبول کرے۔ اور اگر سب کچھ قبول کرتا جائے تو پھر حَکم کس بات کا ہوا۔ مثلاً دیکھو تم میں ایک فرقہ